جج اور جرنیل جتنی عزت سیاست دان کی بھی ہونی چاہیے، وزیراعظم

ہفتہ مئی 16:11

جج اور جرنیل جتنی عزت سیاست دان کی بھی ہونی چاہیے، وزیراعظم
پسرور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ سیاست دان کی بھی جج اور جرنیل جتنی عزت ہونی چاہیے، ملک کی ترقی کا صرف ایک ہی طریقہ ہے ووٹ کو اور سیاست دان کو عزت دیں،ہم نے عدالتی فیصلے قبول کیے لیکن تاریخ اور عوام ان فیصلوں کو مسترد کرتے ہیں،فیض آباد دھرنے کے دوران وزیر قانون زاہد حامد نے استعفی دیا حالانکہ ان کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہ تھا، میں نے انہیں منع کیا لیکن انہوں نے پھر بھی استعفی دے کر شرافت اور خدمت کی سیاست کا معیار قائم کیا،ملک کو چلانے اور معاملات کو حل کرنے کا وقت آتا ہے تو وہ کام سیاست دان کے حوالے کیا جاتا ہے، خواجہ آصف نے 30 سال ملک کی خدمت کی، ایک ویزے پر ساری زندگی کیلئے سیاست دانوں کو نااہل کریں گے تو یہ ملک کے حق میں نہیں،،پنجاب میں شہباز شریف نے مثالی محنت کر کے دکھائی،مسلم لیگ (ن) اپنے عزم اور محنت پر کھڑی ہے۔

(جاری ہے)

ہفتہ کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نارووال اور پسرور میں 2اہم منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا، نارروال، لاہور اور سیالکوٹ موٹروے لنک ہائی وے اور پسرورسڑک کو دو رویہ کرنے کا بھی سنگ بنیاد رکھا، چار رویہ لنک ہائی وے لاہور اور نارووال کے درمیان سفر کا وقت اور فاصلہ کم کرے گی، نارووال قومی شاہراہ سے منسلک نہ ہونے سے ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر نہیں ہے، لنک ہائی وے کی تعمیر سے علاقے میں معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، چار رویہ سڑک نارووال، نارنگ، اطراف کے علاقے کو موٹروے سے ملائے گی، بائی پاس نارووال شہر میں ٹریفک دبائو کو کم کرے گا،لنک ہائی وے منصوبے سے 15لاکھ کی آبادی مستفید ہو گی،16ارب کی لاگت سے بننے والا منصوبہ 18ماہ میں مکمل ہو گا،25.6کلومیٹر سیالکوٹ پسرور سڑک ضلع سیالکوٹ کی اہم شاہراہ ہو گی موجودہ دو رویہ ہائی وے پر روزانہ 12ہزار گاڑیاں گزرتی ہیں،موجودہ سڑک کی بحالی اور دو رویہ کرنے سے ٹریفک کا نظام بہتر ہو گا، سیالکوٹ پسرور شاہراہ سے تقریباً20لاکھ افرادمستفید ہوں گے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیالکوٹ غازی اور شہیدوں کی سرزمین ہے، پاکستانی فوج نے جو جنگ میں کامیابی حاصل کی وہ تاریخ کا یادگار حصہ ہے، سیالکوٹ کے ارکان اسمبلی نے کبھی کسی کام سے انکار نہیں کیا، سیاست کا معیار ہوتا ہے، جس ملک میں سیاستدانوں کی عزت نہیں ہوتی وہ ملک ترقی نہیں کرتا، جتنی عزت جج اور فوج کے جرنیل کی ہوتی ہے اتنی ہی سیاستدان کی بھی ہونی چاہیے، اگر ایک ویزے کیلئے سیاستدان کو نااہل کر دیا جائے کیا یہ ملک کے حق میں ہی ہم نے یہ سب فیصلے قبول کر کے سر آنکھوں پر رکھے، یہ فیصلے نہ عوام قبول کرتے ہیں اور نہ تاریخ، کسی اور کا احتساب نہیں ہوتا صرف سیاستدانوں کا احتساب کیا جاتا ہے، سیاستدان اس کے باوجود سب کچھ برداشت کرتا ہے، پھر بھی ملک کی خدمت کرتا ہے، جب تک ووٹ کی عزت ہو گی تب تک ملک کی عزت ہو گی، جو فیصلہ عوام ووٹ کے ذریعے کرتے ہیں اس کو عزت ملنی چاہیے، یہی ملک کی ترقی کا واحد ذریعہ ہے، سیالکوٹ روڈ کا افتتاح نواز شریف کے وژن کا حصہ تھا،،نواز شریف کا ملکی ترقی میں بہت زیادہ تجربہ ہے، نواز شریف خود معائنہ کر کے بتاتے تھے کہ یہاں سے یہاں تک سڑک کی ضرورت ہے، یہ تمام کام مسلم لیگ (ن) نے کر کے دکھائے ہیں، پنجاب کے صوبے میں شہباز شریف نے مثالی محنت کر کے دکھائی، دوسرے صوبے کے لوگ بھی یہی کہتے ہیں کہ اگر ہمیں پنجاب جیسی ترقی ملتی تو ہم بھی آگے ہوتے جبکہ وسائل سب کے پاس موجود ہیں، ترقی کے باوجود بھی پنجاب کے پاس سب سے کم وسائل ہیں، بات لگن اور محنت کی ہوتی ہے، 8 مہینے ہو چکے مجھے وزیراعظم بنے ابھی تک کئی کئی 100ارب کے منصوبے مکمل نہیں کر پایا، یہ وہ منصوبے ہیں، جو پاکستان مسلم لیگ (ن) نے شروع کئے، یہ تمام منصوبے اسی حکومت میں شروع ہوئے اور اسی حکومت میں مکمل بھی ہوں گے، ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی، ہم نے وہ بھی منصوبے مکمل کر کے دکھائے جو بیس سال سے مکمل نہیں ہو سکے، یہ وہ منصوبہ ہے جو ماضی میں بھی مکمل ہو سکتا تھا، سیالکوٹ موٹروے سے لوگ بہت مستفید ہوں گے، مسلم لیگ (ن) گیس اور بجلی کے منصوبے بھی مکمل کر رہی ہے، پاکستان میں صرف مسلم لیگ (ن) نے کام کر کے دکھایا، پاکستان مسلم لیگ (ن) پاکستان کا درد رکھتی ہے، سی پیک کا منصوبہ پہلے بھی ہو سکتا تھا، ہم نے اپنی جیبیں نہیں بھریں، ہم نے پاکستان کی عوام کی جیبیں بھری ہیں، پاکستان کے تمام مسائل مسلم لیگ (ن) ہی حل کرے گی، فیصلہ صرف عوام کے پاس ہوتا ہے، جو فیصلہ بھی عوام کریں گے اس کے پانچ سال عزت ہونی چاہیے، سب کے پاس اپنی حکومت تھی لیکن صرف کام مسلم لیگ (ن) نے ہی کر کے دکھائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اپنے عزم اور محنت پر کھڑی ہے، پاکستان کا ووٹر ایک باشعور ہے وہ اپنا ووٹ سوچ سمجھ کر دیں گے، جب حکومت ملی شرح نمو 3فیصد تھی جو اب 6فیصد کے قریب ہے، جو کچھ ہم نے کرنا تھا کر دیا، اب فیصلہ عوام کے پاس ہے، پاکستان مسلم لیگ (ن) آپ کے فیصلے سے مزید پانچ سال میں بہترین کام کر کے دکھائے گی۔