صنعتوں کے فروغ کیلئے سندھ میں امن و امان کی فضاء کو سازگار بنادیا ہے، وزیر داخلہ سندھ

صورتحال بہتر ہونے سے کاروباری حلقوں اور عوام میں احساس تحفظ اجاگر ہوا ہے ،کاروباری سرگرمیاں فروغ پارہی ہیں، صدر ایوان تجارت سکھر

اتوار مئی 19:11

سکھر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 مئی2018ء) سکھر ایوان صنعت و تجارت کے صدر انجینئر عبدالفتاح شیخ نے صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال کی ایوان میں آمد پر ایوان کے سابق صدر و اراکین مجلس انتظامیہ کے ہمراہ ان کا استقبال کیا۔وزیر داخلہ کے ہمراہ ڈی آئی جی سکھر رینج خادم حسین رند، ایس ایس پی سکھر امجد احمد شیخ، ایس ایس پی تنویر حسین تنیو ودیگر پولیس افسران بھی موجود تھے۔

صدر ایوان نے خیر مقدمی کلمات میں امن وامان کی بحالی پر حکومت سندھ بالخصوص محکمہ داخلہ کی کارکردگی کو سراہا۔ ڈی آئی جی اور ایس ایس پی سکھر کی زیر قیادت سکھر رینج بشمول سکھر شہر، ملحقہ اضلاع اور ہائی ویز پر شہریوں کی حفاظت کے لئے کئے گئے اقدامات کے اعتراف میں کہا کہ امن وامان کی صورتحال بہتر ہونے سے کاروباری حلقوں اور عوام میں احساس تحفظ اجاگر ہوا ہے اور کاروباری سرگرمیاں فروغ پارہی ہیں۔

(جاری ہے)

صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے اپنے خطاب میںکہا کہ صنعتوں کے فروغ کے لئے سندھ میں امن و امان کی فضاء کو سازگار بنادیا ہے، آج صنعتکار، تاجر اور عوام خود کو مکمل طور پر محفوظ سمجھتے ہیں، امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنائے بغیر صنعتوں کو فروغ اور تجارتی سرگرمیوں کو بڑھایا نہیں جاسکتا، صنعتکاروں و تاجروں کے ٹیکس سے نظام چلتا ہے اور افسران کو تنخواہیں ملتی ہیں، اگر صنعتکار و تاجر ہی پریشان ہونگے اور ان کے تحفظات دور نہیں کئے جائینگے تو پھر سسٹم پر منفی اثرات مرتب ہونگے، یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے صنعتوں کے فروغ، تاجروں کے تحفظات کے ازالے اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے موثر اقدامات ہے، آج سندھ میں امن و امان کی صورتحال چاروں صوبوں سے بہتر ہے، اغوا برائے تاوان کی وارداتوں کا قلع قمع کردیا گیا ہے، پولیس افسران کو سختی سے احکامات دیے ہیں کہ وہ صنعتکاروں و تاجروں کی شکایات کے فوری ازالے کو یقینی بنائیں۔

آپریشن ضرب عضب،، آپریشن رد الفساد نے امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا جبکہ پاکستان کی مسلح افواج، رینجرز،، قانون نافذ کرنیوالے اداروں اورپولیس نے مشترکہ طور پر سندھ میں مثالی امن قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح زندہ رہنے کے لئے ہوا، پانی اور آگ انتہائی ضروری ہے اسی طرح صنعتوں کے فروغ کے لئے امن و امان کی صورتحال ہونا بھی لازمی ہے، دنیا بھر میں جرائم کی وارداتیں ہوتی ہیں تاہم انہیں کنٹرول کرنے کے لئے موثر اقدامات کئے جاتے ہیں، پیپلز پارٹی کو جب اقتدار ملا تھا تو اس وقت سندھ میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب تھی، اغوا برائے تاوان کی وارداتیں روز کا معمول بن چکی تھیں، لوگ بالخصوص صنعتکار و تاجر برادری عدم تحفظ کا شکار تھی، عوام میں پولیس کا تاثر اچھا نہیں تھا، جس پر پیپلز پارٹی کی قیادت نے پولیس افسران کو ہدف دیا کہ وہ عوام بالخصوص صنعتکاروں و تاجروں کا دل جیتنے کے لئے موثر اقدامات کریں تاکہ عوام کا پولیس پر اعتماد بحال ہوسکے، 2008 میں پولیس کی نفری ایک لاکھ تھی، اس وقت ایک لاکھ 49 ہزار ہے، سندھ پولیس نے حکومت کے تعاون سے 10سال کے دوران بڑی کامیابیاں حاصل کیں ہیں اور آج امن و امان کی صورتحال ماضی کے مقابلے میں انتہائی بہتر ہے، پہلے لوگ رات کے وقت سفر کرنے سے ڈرا کرتے تھے مگر اب صنعتکار و تاجر خود کو محفوظ سمجھتے ہیں، صنعتکار و تاجر سندھ کے مختلف اضلاع سے نقد رقم کراچی لیکر آتے اور جاتے ہیں، جنہیں کوئی خطرہ نہیں، میں سندھ کے مختلف ڈویژن کے دورے کررہا ہوں اور صنعتکاروں و تاجروں سے ملاقات کررہا ہوں، مجھے خوشی ہوئی ہے کہ صنعتکاروں اور تاجروں کا امن و امان کی بہتر صورتحال کے باعث پولیس پر اعتماد بڑھا ہے، دورے کے دوران مجھے اب تک پولیس کیخلاف کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی، اگر کوئی شکایت ملی ہے تو دوسرے محکموں کیخلاف ملی ہے، پولیس کیخلاف کوئی شکایت نہیں ہے۔

شکارپور، خیرپور، گھوٹکی، کشمور، جیکب آباد، لاڑکانہ، دادو سمیت سندھ بھر کے صنعتکار و تاجر خود کو محفوظ سمجھتے ہیں ۔ تمام پولیس افسران کو یہ احکامات دیے ہیں کہ وہ صنعتکاروں، تاجروں اور عوام کے درمیان رابطوں کو مزید مضبوط کریں اور امن و امان کی مثالی صورتحال کو بحال رکھنے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں۔اس موقع پر صنعتکاروں کی جانب سے ایس ایس پی سکھر امجد احمد شیخ کو ان کی بہترین کارکردگی پر شمشیر بھی پیش کی گئی ۔

تقریب میں ڈی آئی جی سکھر خادم حسین رند، ڈی آئی جی لاڑکانہ عبداللہ شیخ، ایس ایس پی سکھر امجدا حمد شیخ، ایس ایس پی لاڑکانہ تنویر حسین تنیو، ایس ایس پی جیکب آباد کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ سمیت پولیس کے بالا افسران اور صنعتکار وتاجر بھی موجود تھے۔ملاقات کے دوران ایوان کے عہدیداران و اراکین شکیل احمد مختار، محمد دین، جاوید علی شیخ، زاہد اقبال، آصف علی مہر،،رفیق ڈوسانی، محمد خالد، ملک جاوید، کامل فاروقی، ملک یعقوب، خورشید اعظم سمیت دیگر عہدیداران و اراکین نے صوبائی وزیر داخلہ اور تقریب میں موجود پولیس افسران کو سندھی ٹوپی اور اجرک کے تحائف بھی پیش کئے۔