وزیراعلیٰ کا سرکاری محکموں کے انجینئرز کیلئے قائم ری سٹرکچرنگ کمیٹی کی سفارشات سے اصولی اتفاق

پیر مئی 23:46

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے سرکاری محکموں کے انجینئرز کے لئے قائم ری سٹرکچرنگ کمیٹی کی سفارشات سے اصولی اتفاق کیا ہے انہو ںنے سیکرٹری خزانہ اور سیکرٹری اسٹبلیشمنٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ری سٹرکچرنگ کمیٹی کی سفارشات کو باقاعدہ منظوری کے لئے صوبائی حکومت کو پیش کریں۔ وہ وزیر اعلی ہائوس پشاور میں سرکاری محکموں کے انجینئرز کی ری سٹرکچرنگ کے بارے میں ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔

سیکرٹری ہائے خزانہ ، اسٹبلشمنٹ ، مواصلات و تعمیرات ، آبپاشی ، بلدیات اور دوسرے متعلقہ افسروں نے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیر اعلی کو اسامیوں کی تخلیق کے بارے میں ری سٹرکچرنگ کمیٹی کی سفارشات کے نتیجے میں انجینئروں کو اگلے گریڈوں میں ترقی دینے کے بارے میں بریفنگ دی گئی تاکہ انجینئروںکو اپنے متعلقہ محکموں میں ترقیاں دی جاسکیں۔

(جاری ہے)

وزیر اعلی نے ری سٹرکچرنگ منصوبہ میں اعلی سطح پر آسامیوں کی تخلیق سے اصولی اتفاق کیا تاکہ انجینئروں کو ترقیا ں مل سکیں اور یہ انجینئر ز جو پاکستان اانجینئرنگ کونسل سے باقاعدہ تسلیم شدہ ہو ان کی بنیادی تنخواہ کی شرح میں 1.5 فیصد فارمولا پر تنخواہ میں اضافے پر بھی اصولی اتفاق کیا اور کہاکہ وہ کسی کے ساتھ بھی ناانصافی نہیںکرنا چاہتے اس لئے سرکاری اہلکاروں کو مراعات دینا ان کی بڑی خواہش ہے تاکہ وہ عوامی خدمت بہترانداز میں کرسکیں جیسے کہ ان سے توقع کی جارہی ہے وزیر اعلی نے کہاکہ ری سٹرکچرنگ اور تنخواہ میں یہ اضافہ بہتر عوامی خدمت ، کرپشن کے خاتمے اور انجینئرز کی ایفیشنسی سے مشروط ہوگا انہو ںنے کہاکہ مراعات اور تنخواہوں میں اضافے کے لئے واضح وجہ ہونی چاہئے۔

وہ صوبے کے خزانہ پر غیر ضروری بوجھ نہیں ڈال سکتے وہ صوبے کے مستقبل پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے اور اس لئے وہ صوبے کی مالیاتی بنیاد کو کمزور کرنے کے لئے کوئی غیر منطقی فیصلہ نہیںکرسکتے انہو ںنے کہاکہ تمام سر کاری شعبوں میں ملازمین کو پیکج دینے کے پیچھے بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ بدعنوانی کی حوصلہ شکنی ہو اور خدمات کی فراہمی میں بہتری لائی جائے۔

وزیر اعلی پرویز خٹک نے کے پی انجینئرز کے مطالبات ، جن کی ری سٹرکچرنگ کمیٹی نے بھی سفارش کی ہے سے اتفاق کرتے ہوئے خزانہ اور اسٹبلشمنٹ کے سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ وہ اس مجموعی سٹرکچر کے قانونی پہلوئوں کو دیکھے اور حتمی منظور ی کیلئے صوبائی کابینہ کے اگلے اجلاس میں پیش کرے۔ انہو ںنے مزید کہا کہ تمام سرکاری شعبوںمیں کرپشن میں تیزی سے کمی کو دیکھ کر انہیں بہت خوشی ہوئی ہے۔

انہو ںنے کہاکہ وہ کسی سرکاری ملازم کو کرپشن میں ملوث نہیں دیکھنا چاہتے کیونکہ نہ تو وہ خود کرپٹ ہیں اور نہ ہی ان کے وزراء کرپٹ ہیں اس لئے وہ کسی کو بھی کرپشن کی اجازت نہیں دیں گے۔۔پرویز خٹک نے یہ بھی ہدایت کی کہ سرکاری انجینئرز کے لئے مفادات کے تصادم سمیت تمام پہلوئوں پر مشتمل ایس او پی (SOP) تیار کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے اخراجات کو آمدنی کیساتھ متوازن بنانا ضروری ہے تاکہ ترقی کا پہیہ تیز رفتاری سے چلتا رہے انہو ںنے کہاکہ انہوں نے اے جی این فارمولے کے تحت صوبے کے لئے پن بچلی کے منافع کے لئے اچھی طرح جنگ لڑی اور صوبے کا کیس کامیابی سے جیتا کہ جس سے پن بجلی کے مد میں 100 بلین روپے اضافی وسائل صوبے کو دستیاب ہوں گے جو صوبے میں ترقیاتی کاموں پر خرچ ہوں گے۔

اپنی حکومت کے خلاف پروپیگنڈے کے حوالے سے پرویز خٹک نے کہا کہ صوبائی حکومت نے صوبے میں پہلی مرتبہ بہترین قانون سازی کے ذریعے سرکاری محکموں میں جو شفافیت لائی ہے، کرپٹ عناصر اس کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرتے رہیں گے اور یہ پروپیگنڈہ ماضی میں کرپٹ حکمرانی کا مظاہرہ کرنے والوں کو عوام کی نظروں میں مزید بے نقاب کردے گا۔