نوازشریف کی چیئرمین نیب کو24 گھنٹےمیں شواہد سامنےلانےکی ڈیڈلائن

شواہد نہ لاسکےتوچیئرمین قوم سےمعافی مانگیں اورفوری استعفا دے کرگھر چلے جائیں، نیب اور چیئرمن نی اپنی ساکھ کھوچکے ہیں،نیب کی 90فیصد کاروائیاں میرے اور میری جماعت کیخلاف گھوم رہی ہیں،یہ پری پول دھاندلی ہے۔پریس کانفرنس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات مئی 15:24

نوازشریف کی چیئرمین نیب کو24 گھنٹےمیں شواہد سامنےلانےکی ڈیڈلائن
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10مئی 2018ء) : مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف نے مطالبہ کیا ہے کہ چیئرمین نیب 24گھنٹے میں شواہد سامنے لائیں،شواہد نہ لاسکے توچیئرمین قوم سے معافی مانگیں اور منصب پررہنے کا جواز کھو چکے ہیں ،فوری استعفا دے کرگھر چلے جائیں،نیب اور چیئرمن نی اپنی ساکھ کھو چکے ہیں،نیب کی 90فیصد کاروائیاں میرے اور میری جماعت کیخلاف گھوم رہی ہیں،یہ پری پول دھاندلی ہے۔

انہوں نے آج یہاں چیئرمین نیب کے الزامات کے خلاف پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ نیب کی غیرجانبداری کی جانب اشارہ کرتا رہا ہوں۔۔چیئرمین نیب کی پریس ریلیز نے میری باتوں کی توثیق کردی ہے۔ثابت ہوتا ہے کہ ایک ادارے نے میری کردار کشی اور میڈیا ٹرائل کومیرے خلاف استعمال کیا۔

(جاری ہے)

ایک اردو اخبار میں چھپنے والے غیرمعروف کالم کواتنی سنگین الزام تراشی کا جواز بنالیا۔

8مئی 2018ء کو نیب نے الزام لگا دیا۔ الزام کی نوعیت اتنی شرم ناک ہے اور سنگین ہے کہ اس کونظرانداز کرنا پاکستانی جمہوری نظام کوخطرے میں ڈالنا ہے۔تین بار کے وزیراعظم نے منی لانڈرنگ کے ذریعے 5ارب ڈالرز کی رقم بھارت بھیجی گئی ۔رقم سے بھارت کے زرمبادلہ کوطاقتور اور پاکستان کے زرمبادلہ کو کمزور کیا گیا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ احتساب کے نام پرقائم ادارہ میرے خلاف من گھڑت الزامات کا مورچہ بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاناما پیپرز میں سرے سے میرے نام بھی نہیں تھا میرے کسی بچے کا بھی نام نہیں تھا۔لیکن پھر جے آئی ٹی سے شروع کہانی سب کومعلو م ہے۔ہیروں پربنائی گئی جے آئی ٹی میرے خلاف کرپشن نہ ڈھونڈ سکی۔مجھے اقامہ پرنااہل کردیا گیا۔۔پاناما سے شروع کہانی پر9مہینے ہوگئے تماشا ہوا۔70کے لگ بھگ پیشیاں بھگت چکا ہوں جوپاکستانی تاریخ کا ریکارڈ ہے۔

اب کوشش کی کی جارہی ہے کہ کوئی نہ کوئی نیا کیس بنا کرمجھے سزا دی جائے۔یہ بھی اسی ڈرامے کی دوسری قسط ہے۔ نیب کو نہیں معلوم کہ دوسال پہلے ورلڈبینک اور اسٹیٹ بینک نے بھی تردید کردی تھی۔اس سب کے باوجود ایک غیرمعروف کالم میں میرانام بھارت سے منسوب کرنا ،ثابت ہوچکا کہ یہ اداری اور چیئرمین کریڈیبلٹی سے محروم ہوچکے ہیں۔میری کرادر کشی نہیں بلکہ قومی مفاد کو بھی نقصان پہنچایا ۔

انہوں نے کہاکہ چیئرمین بتائیں گے ؟ کہ چارمہینے بعد کس نے کالم یاد کروایا، اسٹیٹ بینک اور ورلڈ بینک سے تصدیق کی۔ رات کیوں پریس ریلیز جاری کرنا یاد آیا۔انہوں نے کہاکہ نیب اور چیئرمن نی اپنی ساکھ کھو چکے ہیں۔۔چیئرمین نیب شواہد نہ لاسکے تواستعفا دے کرفوری گھر چلے جائیں۔چیئرمین قوم سے معافی مانگیں اور منصب پررہنے کا جواز کھو چکے ہیں ،فوری استعفا دے کرگھر چلے جائیں۔نیب کی 90فیصد کاروائیاں میرے اور میری جماعت کیخلاف گھوم رہی ہیں۔یہ پری پول دھاندلی ہے۔