بھارت کشمیریوںکے خلاف ایک کھلی جارحیت کر رہاہے‘حریت رہنما

حریت رہنمائوںکا شبیر احمد شاہ کو خراج تحسین

ہفتہ مئی 20:03

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں سید علی گیلانی،، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے کہا ہے کہ بھارت میں قائم بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کشمیریوںکے جذبہ آزادی کو دبانے کیلئے انکے خلاف کھلی جارحیت کر رہی ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مشترکہ حریت قیادت نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ کشمیریوںنے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران بھارت کی ظالمانہ فوجی طاقت کا عزم وہمت کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔

انہوں نے بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت کے حالیہ بیا ن کوکہ کشمیری نوجوان بھارتی فوج کا مقابلہ نہیں کرسکتے لہذا آزادی ممکن نہیں ہے کو اس بات کا اعتراف قرار دیا کہ بھارت کی طرف سے کشمیریوں کو دبانے کیلئے فوجی طاقت کا استعمال اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

(جاری ہے)

انہوںنے بپن راوت کو مشورہ دیا کہ وہ اس حقیقت کو تسلیم کر لیں کہ کشمیر ایک سیاسی اور انسانی مسئلہ ہے جسکا تعلق لاکھوں کشمیریوں کے حق خود ارادیت سے ہے لہذ افوجی طاقت کے بل پر کشمیریوں کو زیر کرنے کی ان کی خواہش پوری نہیں ہو سکتی۔

دریں اثنا ء حریت رہنمائوں نے آج سرینگر میں ایک اجلاس کے دوران غیر قانونی طور پر نظر بند سینئرحریت رہنما شبیر احمد شاہ کے عزم وہمت کو سراہاہے جن کی غیر قانونی نظر بند ی کے مجموعی طور پر 31برس پورے ہوچکے ہیں۔ اجلاس کا انعقاد جموںوکشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے کیا تھا اور اس میں محمد یوسف نقاش، حکیم عبدالرشید، یاسمین راجہ، زمرودہ حبیب، فیاض احمد سوداگر، مشتاق الاسلام، جاوید احمد میر، غلام محمد ناگو، مولوی بشیر احمد، محمد یاسین عطائی اور دیگر نے شرکت کی۔

انہوںنے کشمیری سیاسی نظر بندوں کی حالت زار پر سخت تشویش کااظہار کرتے ہوئے انکی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ کٹھ پتلی انتظامیہ نے جماعت اسلامی کے رہنما بشیر احمد لون اور تحریک حریت جموںوکشمیر کے کارکن محمد رفیق شاہ پر کالاقانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کر دیا۔ بشیر احمد لون جو جماعت اسلامی ضلع سرینگر کے امیر ہیںنے شہید پروفیسر محمد رفیع بٹ کی نماز جنازہ پڑھائی تھی جبکہ محمد رفیق شاہ ان ہزاروں افراد میںشامل تھے جنہوں نے چھ اپریل کو گاندر بل میں شہید پروفیسر کی نماز جنازہ میں شرکت کی تھی۔

ان دونوں کو نماز جنازہ کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ ادھر بھارتی فوجیوں کے ہاتھو ں کشمیری نوجوانوں کے حالیہ قتل کے خلاف ضلع پلوامہ میں آج مسلسل ساتویں روز بھی ہڑتال کی گئی۔غلام نبی زکی، غلام نبی نجار، پرویز احمد ڈار اور دیگر پر مشتمل میر واعظ عمر فاروق کی سربراہی میں قائم حریت فورم کا ایک وفد شہید نوجوانوں کے اہلخانہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے جنوبی کشمیرکے مختلف علاقوں میں گیا۔

ضلع پلوامہ کے علاقے چنار باغ محلہ تکیہ میں ایک حملے میں بھارتی سینٹرل ریزرو پولیس فورس کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا۔ بھارتی پولیس کی طرف سے ایک طالب علم اور انکے والد کی گرفتار ی کے خلاف پلوامہ کے علاقے اونتی پورہ میں اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں آج احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔