کوہاٹ ،پولیس نے ممکنہ تخریب کاری کیلئے خود کار اسلحہ اور لاکھوں کی جعلی کرنسی بلوچستان سمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی

کار سے بڑی تعداد میں خود کار اسلحہ اور لاکھوں روپے کی جعلی کرنسی برآمد کرکے ہتھیاروں اور جعلی کرنسی کے دو بین الصوبائی سمگلر گرفتار

ہفتہ مئی 23:29

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) کوہاٹ پولیس نے ممکنہ تخریب کاری کیلئے خود کار اسلحہ اور لاکھوں کی جعلی کرنسی بلوچستان سمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی ہے۔ کاروائی میںانڈس ہائی وے پرموٹر کار سے بڑی تعداد میں خود کار اسلحہ اور لاکھوں روپے کی جعلی کرنسی برآمد کرکے ہتھیاروں اور جعلی کرنسی کے دو بین الصوبائی سمگلروں کو گرفتار کرلیا گیا۔

پکڑا جانیوالا اسلحہ اور جعلی کرنسی درہ آدم خیل سے بلوچستان منتقل کیا جارہا تھا۔ہتھیاروں کی بھاری کھیپ اور لاکھوں کی جعلی کرنسی سمیت گرفتار ملزمان کے خلاف تھانہ محمد ریاض شہید میں مقدمہ درج کرلیا گیاہے۔ضلعی پولیس سربراہ عباس مجید خان مروت کی طرف سے اسلحہ ومنشیات کی سمگلنگ کو مئوثر طور پرروکنے کے حوالے سے جاری کردہ سخت احکامات کو عملی جامہ پہنانے کے سلسلے میں ایس ایچ او تھانہ محمد ریاض شہید اسلام الدین نے ہیڈ کانسٹیبل رفیع اللہ اور دیگر پولیس نفری کے ہمراہ کوہاٹ انڈس ہائی وے پر ٹنل ٹول پلازہ کے قریب واقع پولیس چیک پوسٹ میں ناکہ بندی کررکھی تھی کہ اس اثناء میں درہ آدم خیل سے صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ جانیوالی ایک مشکوک موٹر کار نمبر سندھ AWC.136کو تلاشی کی غرض سے روک لیا گیا ۔

(جاری ہے)

تلاشی کے دوران پولیس نے موٹر کار کے خفیہ خانوں میں چھپایا گیا اسلحہ و کارتوس اور لاکھوں روپے کی جعلی کرنسی برآمد کرکے قبضے میں لی ہے جن میں 44بور کے دو رائفل اور دس چارجرز ،مختلف بور کے 6350عدد کارتوس اور مجموعی طور پر 21لاکھ روپے کی جعلی پاکستانی کرنسی شامل ہیں۔کاروائی میں پولیس نے ہتھیاروں اور جعلی کرنسی کے دو بین الصوبائی سمگلروںشہاب الدین ولد محمد یوسف خان سکنہ زرغون خیل درہ آدم خیل اور محمد یاسین ولد عبدالغیاس سکنہ پشین کوئٹہ کو موٹر کار سمیت گرفتار کرلیا ہے جنکے خلاف تھانہ محمد ریاض شہید میں اسلحہ و جعلی کرنسی سمگل کرنے کے جرم میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران زیر حراست ملزمان نے پکڑا جانیوالا اسلحہ اور جعلی کرنسی قبائلی علاقہ درہ آدم خیل سے بلوچستان کے شہر کوئٹہ سمگل کرنے کا اعتراف جرم کرلیا ہے جن سے تخریب کاری کی ممکنہ خدشات کے پیش نظر تمام پہلوئوں پر مزید تفتیش شروع کردی گئی ہے۔