سندھ پولیس میں ہزاروں خلاف ضابطہ بھرتیوں کا انکشاف

غیر قانونی بھرتی کرنے والے تمام افسران کے خلاف رپورٹ میں سخت الفاظ استعمال کیے گئے ،ْذرائع

اتوار مئی 15:40

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مئی2018ء) سندھ پولیس میں ہزاروں کی تعداد میں خلاف ضابطہ بھرتیاں کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔میڈیارپورٹ کے مطابق سندھ پولیس میں خلاف ضابطہ بھرتیوں کی سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جمع کرائی گئی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق یہ بھرتیاں 2012 سے 2015 کے درمیان کی گئیں۔خلاف ضابطہ بھرتیوں کی تحقیقاتی رپورٹ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثناء اللہ عباسی نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جمع کروائی۔

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق اس عرصے کے دوران کل 19 ہزار 360 بھرتیاں کی گئیں جن میں سے 4 ہزار 748بھرتیاں خلاف ضابطہ تھیں۔ذرائع کے مطابق یہ بھرتیاں کراچی،، حیدرآباد، میر پور خاص، سکھر، لاڑکانہ اور نوابشاہ، سندھ ریزرو پولیس،، محکمہ ٹریننگ، اسپیشل برانچ اور محکمہ ٹرانسپورٹ اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن میں کی گئیں۔رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ غیر قانونی بھرتیاں سندھ ریزرو پولیس میں کی گئیں، دوسرے نمبر پر خلاف ضابطہ بھرتیاں حیدر آباد اور پھر لاڑکانہ میں کی گئیں۔ذرائع کے مطابق غیر قانونی بھرتی کرنے والے تمام افسران کے خلاف رپورٹ میں سخت الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔