نقیب اللہ قتل کیس میں رائو انوار کے خلاف اہم گواہ منحرف

پولیس نے مجھ پر تشدد کرکے رائو انوار کے خلاف بیان لیا، گواہ شہزادہ جہانگیر عدالت میں رائو انوار کو سب جیل منتقل کرنے کا فیصلہ چیلنج کر دیا گیا، عدالت نے کیس کی سماعت 19 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے رائو انوار کی درخواستِ ضمانت اور بی کلاس پر مزید دلائل طلب کرلیے

پیر مئی 13:32

نقیب اللہ قتل کیس میں رائو انوار کے خلاف اہم گواہ منحرف
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مئی2018ء) نقیب اللہ قتل کیس میں سابق ایس ایس پی ملیر رائو انوار کے خلاف اہم گواہ منحرف ہوگیا،،عدالت میں رائو انوار کو سب جیل منتقل کرنے کا فیصلہ چیلنج کر دیا گیا۔پیرکوکراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ رائو انوار،، ڈی ایس پی قمر احمد شیخ، اللہ یار، اقبال اور ارشد سمیت 11 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

پولیس رائو انوار کو سخت سیکیورٹی میں عدالت بکتر بند میں لائی ۔اس موقع پر درجنوں اہلکاروں و افسران سیکیورٹی پر موجود تھے تاہم پولیس کی جان سے رائو انوار کو وی آئی پی پروٹوکول دیا گیا اور بغیر ہتھکڑی کے بھی پیش کیا گیا۔ دوران سماعت نقیب اللہ قتل کیس کا اہم گواہ اپنے بیان سے منحرف ہوگیا۔

(جاری ہے)

پولیس نے گواہ شہزادہ جہانگیر کو واقعہ کا عینی شاہد ظاہر کیا تھا۔

شہزادہ جہانگیر نے عدالت میں اپنے بیان حلفی میں کہا کہ میرا نقیب محسود قتل واقعے سے کوئی تعلق نہیں، پولیس نے مجھ سے زبردستی رائو انوار کے خلاف بیان لیا، پولیس نے مجھ پر تشدد کر کے اپنی مرضی کا بیان ریکارڈ کروایا، میری جان کو خطرہ ہے، عدالت سیکیورٹی کا بندوبست کرے۔پیرکوسماعت میں رائو نوار سمیت 12 ملزمان کو مقدمے کی نقول فراہم کردی گئیں جس پرملزمان نے نقول نامکمل ہونے کی نشاندہی کی۔

ملزمان کے اعتراض پر عدالت نے آئندہ سماعت پر ملزمان کے وکلا کو مکمل دستاویزات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔11مفرور ملزمان کی عدم گرفتاری پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ملزمان کے ایک بار پھر ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے۔ مفرور ملزمان میں سابق ایس ایچ او امان اللہ مروت، شیعب شوٹر اور دیگر شامل ہیں۔۔رائو انوار نے جیل میں بی کلاس کی درخواست دائر کردی۔

ملزم کے وکیل نے کہا کہ رائو انوار کو سینٹرل جیل میں سی کلاس میں رکھا گیا ہے اور اس سے عادی ملزمان جیسا سلوک کیا جا رہا ہے، رائو انوار کسی جرم میں ملوث نہیں اور باقاعدہ ٹیکس ادا کرتا ہے، لہذا بی کلاس کی سہولت دی جائے۔۔جرگہ عمائدین نے رائو انوار کو وی آئی پی پروٹوکول پر اعتراض اٹھادیا۔ جرگہ عمائدین نے مشترکہ موقف میں کہا کہ رائو انوار ملزم ہے، جس طرح دیگر ملزمان کو کورٹ لایا جاتا ہے اسی طرح اسے بھی لایا جائے۔

سماعت کے دوران مدعی مقدمہ کے وکیل نے ملتان لائن میں رائوانوار کی رہائش گاہ کوسب جیل قرار دینے پر اعتراضات جمع کرائے۔ نقیب کے لواحقین کے وکیل صلاح الدین نے کہا کہ ایک فون کال پر ملیر کینٹ کی بیرک کو سب جیل قرار دینا فراڈ لگتا ہے، سب جیل کا تحریری آرڈر ہوناچاہیئے تھا اور پہلے عدالت سے اجازت لینی چاہیئے تھی۔ رائو انوار کے وکیل نے جواب دیا کہ وکیل صفائی کو اعتراض سے پہلے قانون پڑھنا چاہیے۔

عدالت میں رائو انوار کے خلاف جعلی پولیس مقابلے چالان بھی پیش کر دیا گیا۔ جس میں رائو انوار اور ڈی ایس پی قمر شیخ کو گرفتار ظاہر کیا گیا، چالان میں لکھا ہے دوران تفتیش مقابلہ جعلی ثابت ہوچکا ہے جبکہ مدعی مقدمہ اور ایس ایس پی سینٹرل ڈاکٹر رضوان سمیت 28 گواہان کے نام بھی چالان میں شامل کیے گئے ہیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت 19 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے رائو انوار کی درخواستِ ضمانت اور بی کلاس پر مزید دلائل طلب کرلیے۔ عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعت پر ملزمان پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔