ٹیکسز میں اضافے کے بیانات حقائق کے منافی،نئے ٹیکس کا اجراء نہیں کیا گیا،

وفاقی وزیر خزانہ حکومت کا مقصد عوام کی فلاح کے سوا کچھ نہیں،حکومت نے کم آمدن والے افراد کو موجودہ بجٹ میں بہت ریلیف دیا ہے ۔ ٹیکس اصلاحات سے قبل 80 ہزار روپے تنخواہ لینے والے فرد کو 65 ہزار روپے سالانہ ٹیکس دینا پڑتا تھا جو اب زیرو ہو گیا ہے ،نئے ایکسپورٹ پیکج کا آئندہ دنوں میں اعلان کر دیا جائے گا ۔ آئی ٹی سے منسلک افراد اور صنعتکاروں کے لئے خصوصی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں،مفتاح اسماعیل کا ایو ان میں بجٹ بحث سمیٹے ہوئے اظہا ر خیال

منگل مئی 17:26

ٹیکسز میں اضافے کے بیانات حقائق کے منافی،نئے ٹیکس کا اجراء نہیں کیا ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ قائد حزب اختلاف کے ٹیکسز میں اضافے کے بیانات حقائق کے منافی ہیں ۔ تاریخ میں شاہد پہلی دفعہ بجٹ میں نئے ٹیکس کا اجراء نہیں کیا گیا۔ ہماری حکومت نے بی ایس پی کے بجٹ میں تین گنا اضافہ کر دیا قومی اسمبلی میں جاری بجٹ بحث کو سمیٹے ہوئے انہو ں نے کہا کہ اراکین اسمبلی کا مشکور ہوں جنہوں نے بجٹ بحث میں حصہ لیا ا ور بجٹ تجاویز کو بہتر بنانے میں میری معاونت کی ۔

خاص طور پر اپوزیشن کا شکریہ جنہوں نے تحفظات کے باوجود بجٹ بحث میں مثبت راہنمائی فراہم کی۔سندھ کے وزیر اعلٰی کو بجٹ پیش کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ بلوچستان کو بھی سال بھر کا بجٹ دینے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔

(جاری ہے)

میں اس بات کا اعادہ کرتا ہوں کہ میری حکومت کا مقصد عوام کی فلاح کے سوا کچھ نہیں۔ سینیٹ اراکین اور خزانہ کمیٹی کے اراکین کا بھی مشکور ہوں ۔

سینیٹ کی طرف سے 157 سفارشات سامنے آئی ہیں ۔ قائد حزب اختلاف کے ٹیکسز میں اضافے کے بیانات حقائق کے منافی ہیں ۔ تاریخ میں شاہد پہلی دفعہ بجٹ میں نئے ٹیکس کا اجراء نہیں کیا گیا۔ ہماری حکومت نے بی ایس پی کے بجٹ میں تین گنا اضافہ کر دیا ۔ پاکستان بیت المال کا بجٹ 10 ارب روپے کیا گیا ہے۔ حکومت نے کم آمدن والے افراد کو موجودہ بجٹ میں بہت ریلیف دیا ہے ۔

ٹیکس اصلاحات سے قبل 80 ہزار روپے تنخواہ لینے والے فرد کو 65 ہزار روپے سالانہ ٹیکس دینا پڑتا تھا جو اب زیرو ہو گیا ہے ۔ کہا گیا کہ درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں کمی پر ہوئی ہے۔ وفاقی حکومت نے ناموزوں حالات کے باوجود ملکی برآمدات میں اضافہ کے لئے گوں نا گوں اقدامات اٹھائے ہیں۔ درآمدات میں اضافہ میں بھی خاطر خواہ کمی ہوئی ہے ۔ اپریل میں صرف دو فیصد درآمدات بڑھی ہیں ہم نے جب حکومت سنبھالی تو توانائی کا شدید بحران تھا۔

موجودہ حکومت نے پانچ سال کے عرصے میں بجلی کی طلب اور رسد کے معاملے میں کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے ۔ بجلی کے معاملے میں حقیقت یہ ہے کہ جتنی بجلی استعمال ہوتی ہے اتنا ریونیو وصول نہیں ہو رہا ۔ قرضوں سے بجلی کا بحران حل کیا ۔ سڑکوں کا جال بچھایا ہے ایسے میں الزامات لگا دینا کہ قرض عیاشی کے لئے لئے گئے ہیں مناسب نہیں ۔ ہم نے بجٹ میں چند ترامیم لانے کا فیصلہ کیا ہے ۔

نئے ایکسپورٹ پیکج کا آئندہ دنوں میں اعلان کر دیا جائے گا ۔ آئی ٹی سے منسلک افراد اور صنعتکاروں کے لئے خصوصی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ۔ زرعی پیداوار میں اضافے کے لئے تمام کھادوں سے ٹیکس کی شرح کم کر کے دو فیصد کی جا رہی ہے ۔ کم تنخواہ دار ملازمین کے مسائل کی نشاندہی پر حکومت ملازمین کے کنوینس الائونس میں 50 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا ہے ۔

وفاقی حکومت نے کم لاگت کے رہائشی منصوبوں میں اضافہ کا فیصلہ کیا ہے ۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے سرمایہ کو محفوظ بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ۔ اندرون ملک و لمبے فضائی سفر پر پٹرول ایکسائز ڈیوٹی ٹیکس پر 2000 کم کیا جا رہا ہے ۔ یہ تبدیلیاں مختلف طبقہ فکر کی تجاویز کو سامنے رکھتے ہوئے کی گئی ہیں ۔ اپنی قوم کے شکرگزار ہیں جنہوں نے کام کرنے کے موقع فراہم کیا ۔ اس موقع پر اپنے قائد میاں نوازشریف کا بھی مشکور ہوں جن کی بہترین رہنمائی سے عوام کے لئے ایک متوازی بجٹ دینے میں کامیاب ہوئے ۔ ۔