گلگت بلتستان کے عوام کو آئینی اور قانونی حقوق دینے چاہئیں،فرحت اللہ بابر

منگل مئی 21:49

گلگت بلتستان کے عوام کو آئینی اور قانونی حقوق دینے چاہئیں،فرحت اللہ ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 مئی2018ء) سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو آئینی اور قانونی حقوق دینے چاہئیں نوجوان طبقہ انتہائی احترام اور با ادب طریقے سے اپنے جائز مطالبا ت سامنے رکھ رہے ہیں انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محسود قبائل کے مسائل کو نظر انداز کرلیا گیا تھا جس نے پختون تحفظ مومنٹ کی شکل اختیار کیں اب بھی ان کی نہیں سنی جارہی ہے ایسا نہ ہوکہ پختون تحفظ مومنٹ بھی مظلوم تحفظ مومنٹ کی شکل اختیار نہ کریں۔

گلگت بلتستان کے عوام میں شعو ر آگیا ہے اب وہ مطالبہ کررہے ہیں کہ ان کے قدرتی وسائل پر ریاست پاکستان کا قبضہ ہونے کے باوجو د ان کو قومی و سینیٹ اسمبلیوں میں نمائندگی نہیں دی جاری ہے۔شہید بھٹو فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں منعقد ہ سیمینار بعنوان’’مین سٹریمنگ گلگت بلتستان‘‘کے موضوع پر منعقد کیا گیا تھا۔

(جاری ہے)

مقررین میں سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر، علی احمد جان صدر پی پی گلگت بلتستان، مولاناعطائ اللہ صدر جے یو آئی جی بی، امجد حسین ایڈوکیٹ صدر شہید بھٹو فاؤنڈیشن جی بی، ماروی سرمد، ڈاکٹر شریف سمیت دیگر سماجی وسیاسی شخصیات نے کیں۔فرحت اللہ بابر نے کہا کہ گلگت بلتستان کی عوام کو تاثردیا جارہا ہے کہ ان کے بنیادی حقوق متنازعہ ہے جبکہ دولت وقدرتی وسائل غیر متنازعہ ہی18ترمیم کے بعد صوبوں کو بنیادی حقوق دیئے گئے جبکہ جی بی کی عوام کو نظر انداز کردیا گیا۔

انہوں نے تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ہر شہر میں ایک ہی وقت اور ایک ہی موضوع پر جی بی کی عوام کو سیمینار اور پروگرامز منعقد کرنے کی ضرورت ہیں تاکہ جی بی کی عوام کی بنیادی حقو ق کے بارے میں ریارست خبردار ہوجائے۔انہوں نے مزید کہا کہ میں نے نوجوانوں سے خود سنا ہے کہ ریاست پاکستان نے ہمارے سے دھوکہ کیا ہے اور کررہے ہیں۔علی احمد جان نے کہا کہ گلگت بلتستان کی نامور شخصیت بابا جان کور ہا کیا جائے۔

مولانہ عطاء اللہ نے کہا کہ جسطر ح سے زندہ قوموں کو جینے کا حق دیا جاتاہے گلگت بلتستان کی عوام کو بھی جینے کا حق دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں سے کہتاہوں کہ گلگت بلتستان کو دیوار سے لگانے کے بجائے سینے سے لگائیں، ہمیں نہ چاہتے ہوئے بھی کشمیر سے جڑ اگیا، ان کا کہناتھا کہ اسلام آبادمیں میں ہمیشہ پرچیوں کی سیاست رہی ہے سی پیک میں ڈھائی سال سے کچھ جی بی کی عوام کچھ نہیں ملا۔

امجد حسین نے کہا کہ گلگت بلتستان کے ایشوز کو سمجھنے کی ضرورت ہے بیس سے پچیس لاکھ کی آبادی پچھلے ستر سالوں سے اپنے ووٹ کا حق مانگ رہی ہے،جمہوری حق مانگ رہے ہیں۔جموں کشمیر بھی متنازعہ علاقہ مگر بھارت نے وہاں کے عوام کو بنیادی حقوق دیئے ہے،جی بی کی عوام کو خود مختار جوڈیشری دی جائے۔ ان کا کہناتھا کہ یہاں ووٹ کو عزت دو کی بات تو کی جاتی ہے مگر ہم کہتے ہیں ہمیں ووٹ دینے کو حق توپہلے دیاجائے۔

موجود ہ حکومت نے جو نیا پیکج دیا جس کے تحت تمام اختیارات وزیر اعظم کے پاس ہونگے یعنی جس کو ہم عوام ووٹ نہیں دے سکتے ا س شخص کے پاس ہمارے اوپر حکمرانی کا حق ہوگا۔انہوں نے کہاکہ چائنہ ہماری وجہ سے پاکستان کا ہمسایہ ہے پورے ملک کے لئے ایک قانون ہونا چاہئے۔ماروی سرمد نے کہا کہ 2009میں پیپلز پارٹی نے پہلی مرتبہ جی بی کو قانونی حیثیت دی، گلگت بلتستان کونسل کا قیام عمل میں لایا گیاجوایک اسلام آباد اور جی بی کے درمیان ایک پل بنی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جی بی کے سارے اختیارات وزیر اعظم کو سونپ دینا زیادتی ہوگی۔گلگت بلتستان کو ایک علیحدہ صوبے کی حیثیت ملنی چاہئے۔ڈاکٹر شریف نے کہا کہ جی بی مین سٹریم کا سب سے بڑا مسئلہ’مسئلہ کشمیر‘ ہے، یہ تاثر پچھلے 70سالوں سے دیا جارہا ہے کہ اقوام متحدہ میں پیش کردہ قراردوں کی وجہ سے گلگت بلتستان متنازعہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کے لئے قربانی دی ہے ریاست پاکستان ہماری قربانیوں کا اعتراف کرکے ہمیں قومی اورسینیٹ اسمبلی میں نمائند گی دیں۔