شہباز شریف کی زیر صدارت پارٹی اجلاس:ارکان کے نواز شریف کے بیان پر شدید تحفظات

نواز شریف کو متنازع رپورٹر سے ملانے والا غدار ہے ، کس نے ایسی حرکت کی ہے ایسے شخص کو پارٹی سے باہر کریں،انتہائی نازک موڑ پر کھڑے ہیں،انتخابی مہم میں عوام کا سامنا کیسے کرینگے،ہم کہاں جائیں پارٹی صدر فوری طور پر مداخلت کر کے معاملات کو سلجھائیں،نثار کو واپس لائیں، لیگی رہنما پھٹ پڑے پارٹی صدر شہباز شریف کی نثار کو واپس لانے اور تحفظات نواز شریف تک پہنچانے کی یقین دہانی

جمعرات مئی 17:25

شہباز شریف کی زیر صدارت پارٹی اجلاس:ارکان کے نواز شریف کے بیان پر شدید ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 مئی2018ء) مسلم لیگ ن کے صدر اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے زیر صدارت مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس مین بیشتر لیگی اراکین نے پارٹی قائد نواز شریف کے بیانیے اور ان کی پالیسی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے شہباز شریف سے مداخلت کی درخواست کی اور زور دیا کہ چوہدری نثار کو دوبارہ پارٹی میں فعال کیاجائے جس پر شہباز شریف نے پارٹی اراکین کو یقین دلایا کہ وہ ان کے تحفظات نواز شریف تک پہنچائیں گے ۔

(جاری ہے)

جمعرات کے روز پارٹی صدر شہباز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ ن کے پارلیمانی پارٹی اجلاس ہوا جس میں مسلم لیگ ن کو درپیش مشکلات اور آئندہ کے حکمت عملی پر غور کیا گیا اجلاس میں پارٹی اراکین نے شہباز شریف کو درپیش مشکلات سے آگاہ گیا اراکین نے اجلاس میں کہا کہ نواز شریف کے بیان کے بعد ہمارے لیے ماحول سازہ گار نظر نہیں آرہا اسی صورتحال میں ہمیں الیکشن مہم میں بھی مشکلات کا سامناکرنا پڑسکتا ہے لیگی اراکین نے شہباز شریف سے رہنمائی طلب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہی بتائیں ہم کیا کریں ہمیں محاذآرائی کیے بغیر الیکشن لڑنا اور جیتنا چاہیے نواز شریف کے بیان کے بعد ماحول الیکشن مہم کیلئے سازگار نہیں رہا ہمیں محاذآرائی سے اختلاف کرنا چاہئے لیگی اراکین کا کہنا تھا کہ جس نے بھی متنازعہ صحافی کو نواز شریف سے ملوایا وہ غدار ہے،کس نے ایسی حرکت کی ہے ، ایسے شخص کی نشاندہی کر کے پارٹی سے باہر کیا جائے ، جو بیانہ شہباز شریف کا ہے وہی نواز شریف کابھی ہونا چاہیے، پہلے ہی نواز شریف نے شہباز شریف کو پارٹی صدر دیر سے بناکر بہت بڑی غلطی کی اراکین نے شہباز شریف کو مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کو دیرینہ ساتھیوں سے صلاح کرنے کا مشورہ بھی دیں پارلیمانی اراکین نے چوہدری نثار علی خان کو واپس لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے پارٹی صدر سے اپیل کی ہے کہ ہمیں اس بھنور سے نکالیں ہم اپنے اداروں پر کیوں الزام لگارہے ہیں ،،نواز شریف کے بیانیے نے اداروں میں تصادم کے فضاء کو بڑھا دیا ہے جس سے ملک اور پارٹی کو نقصان پہنچ رہا ہے بھارتی حکام نے کبھی بھی کلبھوشن کا الزام اپنے اداروں پر نہیں دیا پھر ہم کیوں اپنے اداروں کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں پارلیمانی اراکین نے شہباز شریف کو مزید کہا کہ ہمارا آپ کو یہاں بلوانے کا مقصد ی یہی تھا کہ وہ ان کی بات سنے اور نوا شریف تک ہماری بات پہنچائیں اس وقت پاکستان کے اندر حالت انتہائی خر اب ہورہے ہیں شہباز شریف نے پارٹی اراکین کو یقین دہانی کرائی کہ میں آپ کے تحفظات اور تجاویز کو نواز شریف تک پہچاؤں گا اور اس مسئلے کا حل جلد از جلد نکالیں گے۔