فوج کوبدنام کرنا نوازشریف کی عادت بن چکی ہے،عمران خان

جب نوازشریف جب بھی اقتدارسے باہرہوتے ہیں فوج کے خلاف باتیں کرتے ہیں،1994 میں بھی ایسا ہی کیا تھا۔ چیئرمین پی ٹی آئی کا ٹویٹ

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ ہفتہ مئی 18:20

فوج کوبدنام کرنا نوازشریف کی عادت بن چکی ہے،عمران خان
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔19مئی 2018ء) : تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ فوج کوبدنام کرنا نوازشریف کی عادت بن چکی ہے،جب نوازشریف جب بھی اقتدارسے باہرہوتے ہیں فوج کے خلاف باتیں کرتے ہیں،1994 میں بھی ایسا ہی کیا تھا۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ لگتا ہے کہ فوج کوبدنام کرنا نوازشریف کی عادت بن چکی ہے۔

نوازشریف جب بھی اقتدارسے باہرہوتے ہیں فوج کے خلاف باتیں کرتے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ 1994ء میں بھی نواز شریف نے ایسا ہی کیا تھا۔ انہوں نے 1990ء میں اصغر خان کیس سے متعلق واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے کہ فوج کوبدنام کرنا نوازشریف کی عادت بن چکی ہے۔ واضح رہے گزشتہ دنوں جنرل ر اسلم بیگ اور اسد درانی کی جانب سے دائر نظرثانی درخواستوں کو سپریم کورٹ نے مسترد کردیا تھا۔

(جاری ہے)

جبکہ فریقین کوعدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔۔چیف جسٹس نے استفسار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ وفاقی حکومت نےفیصلے کے بعد آج تک کوئی ایکشن نہیں لیا۔ایف آئی اے کی تحقیقات بھی ایک جگہ ہی رکی ہوئی ہیں۔ حکومت فیصلہ کرے کہ معاملہ ایف آئی اے میں جانا ہے یا نیب میں؟ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ یہ نہیں معلوم آرٹیکل 6 کا مقدمہ بنتا ہے یا نہیں۔

عدالتی فیصلوں پر من و عن عمل ہونا چاہئیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پرویز مشرف کیخلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کا فیصلہ حکومت نے کیا،،اصغر خان کیس کو بھی حکومت پر چھوڑتے ہیں۔واضح رہے اصغر خان کیس1990ء میں اسلامی اتحاد کی تشکیل اور انتخابات میں دھاندلی کیلئےسیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم سے متعلق ہے۔ ایئر فورس کے سابق سربراہ اصغر خان مرحوم نےسیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم سے متعلق سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ایف آئی اے کی ٹیم نے اصغر خان کیس کی انکوائری بھی شروع کردی ہے۔