اسپیشل کرکٹرز کو نظر انداز نہ کیا جائے ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے، ڈاکٹر زاہد حسین انصاری

اسپیشل کرکٹرز نے بھارت جیسے ملک کو ہرایا اور پاکستان کا نام روشن کیا ، اسپورٹس سیمینار سے خطاب

اتوار مئی 18:10

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مئی2018ء) اسپیشل کرکٹرز کو نظر انداز نہ کیا جائے ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے چونکہ انہوں نے بھارت جیسے ملک کو ہرایا اور پاکستان کا نام روشن کیا یہ بات مہمان خصوصی حسین تھیبو نے خصوصی افراد کی کھیلوں میں افادیت اور مستقبل میں اسپیشل پرسن کو عام شہری کی طرح سمجھا جائے پاکستان وہیل چیئر کرکٹ ایسوسی ایشن اور اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئر حکومت سندھ کے تعاون سے میرٹ ہوٹل میں اسپورٹس سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی اس موقع پر اسپیشل گیسٹ ڈاکٹر زاہد حسین انصاری سیکریٹری سندھ بلڈ ٹرانسفیوشن اتھارٹی ہیلتھ آف ڈیپارٹمنٹ گورنمنٹ آف سندھ ،مانتھا مقصود فزیکل ٹرینر،سمیرا انور،رائو محمد شفیق ،عبد المجید ابدانی،سید منور علی،،ڈاکٹر ہیرا لعل لوبانو،سرپرست اعلیٰ پاکستان وہیل چیئر کرکٹ ڈاکٹر پرویز رضوی ،طارق رحمانی،،ڈاکٹر رخسانہ راجپوت ،ماجد داور،سید فیضان باقر، ینگ سوشل ریفارمرکے جنرل سیکریٹری شیخ سعود ہارون ،نائب صدر صوبیہ اسلام دیگر سیاسی و سماجی اسپورٹس کی ممتاز شخصیات بھی موجود تھے ۔

(جاری ہے)

حسین تھیبو نے مزید کہا کہ نہ صرف ان کے لئے کوٹے سسٹم پر عملدرآمد ہو تا ہے جسکی وجہ سے اکثر بے رو ز گار ہیں جبکہ ایسے اسپیشل افراد کو خصوصی اہمیت دینی چاہیے ۔حسین تھیبو نے کہا کہ پاکستان وہیل چیئر کرکٹ کا دورہ نیپال کے لئے اپنی جانب سے بھر پور مالی تعاون کرونگا۔۔سید منور علی نے کہا کہ دنیا بھر میں دس فیصد افراد مختلف بیماریوں اور دیگر وجوہات کی بنا پر معذور ہیں مگر ہم ان کو اپنے سے کسی بھی طرح بھی اپنے سے الگ نہیں کرسکتے چونکہ کوئی بھی شخص کسی بھی وجہ سے کبھی بھی معذور ہوسکتا ہے اس لئے ہمیں ان سے محبت اور خلوص سے پیش آنا چاہیے عبد المجید ابدانی نے کہا کہ یہ اسپیشل کرکٹرز ہی ہیں جو اسپیشل ہونے کے باوجود 2013سے کرکٹ کے کھیل کے ذریعے پاکستا ن کا جھنڈا لہرا رہے ہیں اور ملیشیاء میں بھارت کو ہرا کر وہ کارنامہ انجام دے چکے ہیں جو اس سے پہلے کسی بھی اسپیشل کھلاڑیوں نے انجام نہیں دیا تھا انہوں نے کہا کہ ان میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بے پناہ صلاحیتیں ہیںاور یہی جذبہ انہیں آگے لے کر جاتا ہے، رائو محمد شفیق نے کہا کہ میں نے اس سے قبل کبھی ایسے کھلاڑی نہیں دیکھے جو بغیر کسی وسائل اور زرائع کے اپنی تحت وہیل چیئر پر کرکٹ کھیل کرکے ملک کا نام روشن کر رہے ہوں انہوں نے کہا کہ یہ قابل ستائیش ہیں جنہوں نے جسمانی کمزوری کو کمزوری نہیں بنایا۔

ڈاکٹر زاہد حسین انصاری نے کہا کہ اس طرح کے اسپورٹس سیمینار میںان اسپیشل کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے اور ان میں کھیلوں کے ذریعے ملک کا نام روشن کرنے کا جذبہ بھی پہلے سے زیادہ بڑھا ہے انہوں نے کہا کہ کرکٹ بورڈ جس طرح نارمل کھلاڑیوں کی ہر طرح مدد اور تعاون کرتا ہے اسی طرح ان اسپیشل کرکٹرز کی بھی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور انہوں نے نیپال کے دور ہ کے لئے بھر پور مالی تعاون کا اعلان کیا۔

سمیرا انور نے کہا ملک میں اس وقت تک کھیل ترقی نہیں کریگا جب تک کھلاڑیوں کو روزگار کے مواقع فراہم نہیں کیئے جائیں گے انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کو سیاست میں حصہ نہیں لینا چاہیے۔ماجد داور نے کہا کہ صوبائی وزیر کھیل سردار محمد بخش مہر اورسیکریٹری اسپورٹس ڈاکٹر نیاز علی عباسی کے انتہائی مشکور ہیں جنہوں نے کراچی میں ایک روزہ اسپورٹس سیمینار پروگرام کے انعقاد میں پاکستان وہیل چیئر ایسوسی ایشن کا بھر پور ساتھ اور آئندہ بھی سندھ بھر میں سیمینار اور ورکشاپ میں بھر پور سپورٹ کرنے کا اعلان کیا۔

شیخ سعود ہارون نے کہا کہ انہیں اللہ نے ایسی صلاحیتوں سے نوازا ہے کہ جو نارمل انسانوں میں نہیں ہوتی اور یہ نہ صرف میرے لئے بلکہ پورے پاکستان کے لئے قابل فخر بات ہے ڈاکٹر پرویز رضوی نے کہا کہ مخیر افراد اور اداروں کو ایسے افراد کی بھر پور مدد کرنی چاہیے تاکہ ان کا ایک بہترین مستقبل بن سکے اور جب ان کا مستقبل تابناک ہوگا تو یہ پہلے سے بھی زیادہ جذبہ کے ساتھ ملک کی خدمت کریںگے۔سیمینار کے اختتام پر اسپیشل گیسٹ شیلڈ و اجرک اور پھلوں کے گلدستے پیش کیے گئے اور پرتکلف آئی ٹی اور محکمہ کھیل یوتھ افیئرر حکومت سندھ کی جانب سے تعریفی اسناد دیئے گئے ۔