کینسر جیسے موذی مرض کے علاج اور خاتمے کے لئے کارپوریٹ اداروں کو کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے اصول کے تحت اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، کراچی میں کینسر کیئر ہسپتال پاکستان میں پیلی ایٹو کیئر کا پہلا ادارہ ہے جو رواں سال کام شروع کرے گا، چیریٹی ادارہ ہونے کے باوجود یہ جدید ترین سہولیات سے مزین ہو گا اور معیاری سہولیات فراہم کرے گا

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کینسر کیئر ہسپتال کے لئے فنڈز جمع کرنے کی تقریب سے خطاب

اتوار مئی 20:10

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مئی2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کراچی میں کینسر کیئر ہسپتال کے لئے حکومت کی جانب سے 10کروڑ روپے کے فنڈز کی فراہمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کینسر جیسے موذی مرض کے علاج اور خاتمے کے لئے کارپوریٹ اداروں کو کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے اصول کے تحت اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، کینسر ایک ایسا مرض ہے جو پاکستان میں تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اس کے علاج کے لئے سہولیات ناکافی ہیں، کراچی میں کینسر کیئر ہسپتال پاکستان میں پیلی ایٹو کیئر کا پہلا ادارہ ہے جو رواں سال کام شروع کرے گا، چیریٹی ادارہ ہونے کے باوجود یہ جدید ترین سہولیات سے مزین ہو گا اور معیاری سہولیات فراہم کرے گا۔

وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار اتوار کو یہاں گورنر ہائوس کینسر کیئر ہسپتال کے لئے فنڈز جمع کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر گورنر سندھ محمد زبیر اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹر شہریار سے مل کر خوشی ہوئی ہے جنہوں نے ایک ایسا کام شروع کیا ہے جس کی پاکستان میں ضرورت ہے، ڈاکٹر شہریار نے جو بریفنگ دی اور جو اعدادوشمار دئیے اس کے مطابق کینسر ایک ایسا مرض ہے جو پاکستان میں تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اس کے علاج کے لئے سہولیات ناکافی ہیں۔

اس بیماری کے علاج کے لئے انہوں نے اپنا ذمہ اٹھایا ہے اور اپنا کردار اداکر رہے ہیں، کینسر کے مفت علاج کے لئے ہسپتال جس میں کسی مریض کو علاج کے لئے انکار نہیں کیا جائے گا، کا قیام ایک بڑا چیلج ہے اور ہم سب پر یہ فرض ہے کہ جتنی مدد کر سکتے ہیںوہ کر لیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ہسپتال کے قیام کے لئے جو سہولیات سرکاری اور نجی شعبے نے دی ہیں وہ نہ ہونے کے برابر ہیں، ہمارے پاس جو اعدادوشمار ہیں ان کے مطابق کینسر کے 75فیصد مریض بغیرکسی علاج کے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں یہ ایک تکلیف دہ مرحلہ ہے۔

وزیراعظم نے کہاکہ اپنے شہریوں کو ہیلتھ کیئر کی سہولیات پہنچانا کسی بھی وفاقی یا صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے، حکومت کوشش کرتی رہتی ہے لیکن وسائل کی کمی کی وجہ سے وہ تمام ضروریات کو پوری نہیں کر سکتی، اس صورتحال کے تناظر میں ڈاکٹر شہریار نے جو سلسلہ شروع کیا ہے ، وہ اہمیت کا حامل ہے، اس قسم کے بہت سے ادارے پاکستان میں کام کررہے ہیں اور مریضوں کو انتہائی ضروری سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ کراچی میں کینسر کیئر ہسپتال کی تعمیر کا منصوبہ 9 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہونا ہے، یہ پاکستان میں پیلی ایٹو کیئر کا پہلا ادارہ ہے جو رواں سال کام شروع کرے گا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ چیریٹی ادارہ ہونے کے باوجود یہ جدید ترین سہولیات سے مزین ہو گا اور معیاری سہولیات فراہم کرے گا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کینسر کی وقت پر تشخیص بھی ایک اہم ایشو ہے جس کے لئے موبائل سروس کا بندوبست کیا گیا ہے۔

مجھے امید ہے کہ کینسر کے علاج کے لئے علاج کا ایک مربوط نظام استوار کیا جائے گا تا کہ ملیریا، ٹی وی اور دیگر بیماریوں کی طرح کینسر بھی کام کیا جا سکے۔ اس بیماری کی جتنی جلد تشخیص ہوتی ہے اتنی ہی اس سے بچنے کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ کارپوریٹ سماجی ذمہ داری(سی ایس آر) کے تحت او جی ڈی سی ایل نے اس ادارے کے لئے فنڈز اور عطیات دئیے ہیں۔

مجھے امید ہے کہ سرکاری اورنجی شعبے کے دیگر ادارے بھی سی ایس آر کے تحت اس ادارے کی مدد کریں گے، حکومت کوشش کرے گی کہ فنڈز اور عطیات کو ٹیکس سے استثنیٰ دیا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے بجٹ میں اس سلسلے میں ہم نے اقدامات بھی کیے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہسپتال بنانا اور چلانا ایک بڑا چیلنج ہے اور اس کے لئے جہد مسلسل کی ضرورت ہے، ڈاکٹر شہریار اپنا اعتماد بنانے میں ضرور کامیاب ہوں گے کیونکہ ایک مرتبہ اعتماد قائم ہونے کے بعد پاکستان کی عوام انہیں مایوس نہیں کریں گے۔

وزیراعظم نے کہاکہ اس قسم کے اداروں کا قیام وقت کی ضرورت ہے کیونکہ ایسے اداروں میں جو جس معیار کی خدمات فراہم کی جاتی ہیں وہ حکومتی شعبہ فراہم نہیں کر سکتا۔ وزیراعظم نے ہسپتال کے لئے 10کروڑ روپے کی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ باقی ادارے بھی اس ضمن میں اپنا کردار اداکریں گے۔ وزیراعظم نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ فنڈز ریزنگ کی اس طرح کی تقریبات مستقبل میں بھی منعقد ہوں گی۔