جسٹس اعجازالاحسن کے گھر ہونے والے مبینہ حملے کا ڈراپ سین

معاملے کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے رپورٹ تیار کرلی، ٹارگٹ کرکے گولیاں نہیں چلائی گئیں

muhammad ali محمد علی منگل مئی 18:57

جسٹس اعجازالاحسن کے گھر ہونے والے مبینہ حملے کا ڈراپ سین
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) جسٹس اعجازالاحسن کے گھر ہونے والے مبینہ حملے کا ڈراپ سین ہو گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر کچھ ہفتے قبل مبینہ حملہ ہوا تھا۔ لاہور میں واقع سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر کچھ نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی تھی۔ تاہم فائرنگ کے باعث خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

اب اس تمام معاملے کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ مکمل کر لی ہے۔ جے آئی ٹی کی جانب سے تیار کی گئی ابتدائی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فائرنگ کا معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر کوئی سوچا سمجھا منصوبہ نہیں تھا۔ معاملے کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے رپورٹ میں مزید بتایا ہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پرٹارگٹ کرکے گولیاں نہیں چلائی گئیں۔

(جاری ہے)

تحقیقات کے دوران جےآئی ٹی نےجسٹس صاحب کےگھرکےاطراف لگےکیمروں کی فوٹیج کابھی جائزہ لیا۔ جسٹس اعجازالاحسن کے گرنیوالی دونوں گولیاں 9ایم ایم پستول سے چلائی گئیں۔ گولیاں ملنے کے بعد اردگرد کے علاقوں میں جانچ پڑتال کی گئی۔ گولیاں ملنے سے ایک روز پہلے ایک کلومیٹر دور رات کو ہوائی فائرنگ ہوئی تھی۔ پولیس نے علاقے کے سرچ آپریشن کے دوران قبضہ میں لیے گئے پستول فارنزک لیبارٹری بھجوا دیے ہیں۔

فرانزک لیبارٹری کی رپورٹ کے بعد معلوم ہو گا کہ فائرنگ کس پستول سے کی گئی۔ واضح رہے کہ جسٹس اعجازالاحسن سپریم کورٹ کے اس بینچ کا حصہ تھے جس نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دینے کا فیصلہ دیا تھا۔ اسی باعث ان کی رہائش گاہ پر ہونے والے مبینہ حملے کے بعد کئی سوالات نے جنم لیا تھا۔ تاہم اب جے آئی ٹی کی تحقیقات رپورٹ نے معاملے کا رخ ہی بدل دیا ہے۔