والدین کو ہراساں کرنے پر نجی اسکول کے خلاف پر امن احتجاجی مظاہرہ، اسکول انتظامیہ سے تعلیم کے نام پر استحصال بند کرنے کا مطالبہ

منگل مئی 23:42

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) گلشن اقبال میں ایک نجی اسکول کی انتظامیہ کے خلاف طلباء کے والدین نے تھانے میں شکایت درج کرائی ہے، جس میں جون اور جولائی کی فیس اور سالانہ چارجز کی وصولی کے خلاف احتجاج پر والدین کو ہراساں کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کورس کی کتابوں اور اسٹیشنری کی خریداری کے لئے غیر قانونی طور پر مجبور کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں اسکول انتظامیہ نے انہیں سخت نتائج کی دھمکی دی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ والدین کو جون جولائی کی فیس ادا کرنے کے لئے مجبور کیا جا رہا ہے ورنہ ان کے بچوں کو اسکول سے نکال دیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ کچھ بچوں کا یہ شرائط پوری نہ کرنے پر نام خارج کر دیا گیا ہے، والدین کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ نامزد اسٹیشنری کی دکان سیسٹیشنری کی مد میں 2500 روپے جمع کروا کر ٹوکن اسکول میں جمع کروائیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ جن بچوں کے والدین نے ایسا نہیں کیا انہیں موسم گرما کی چھٹیوں کے لئے ہوم ورک نہیں دیا گیا۔ والدین نے چیف جسٹس آف پاکستان اور متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ وہ اس صورت حال کا نوٹس لیں تاکہ ان کے بچے تعلیم جاری رکھ سکیں۔ اس حوالے سے والدین نے شاہین پبلک سکول گلشن اقبال کی با اثر انتظامیہ کے خلاف کراچی پریس کلب کے باہر منگل کے روز احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تعلیم کے نام پر استحصال فوری بند کیا جائے۔