پی ٹی آئی کے اجلاس میں جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کے مابین تلخ کلامی

پی ٹی آئی رہنما عارف علوی نے اجلاس کی اندرونی کہانی بیان کر دی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین بدھ مئی 11:29

پی ٹی آئی کے اجلاس میں جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کے مابین تلخ ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 23 مئی 2018ء) : نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما عارف علوی نے شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کے مبینہ جھگڑے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میں خود بھی اس اجلاس میں موجود تھا مجھے تو کوئی تلخ کلامی سنائی نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ ہر پارٹی میں ممبران کے مابین اختلاف رائے ہوتا ہے اور ہماری پارٹی میں بھی اختلاف رائے موجود ہے۔

لیکن کوئی تلخ کلامی نہیں ہوئی، شاہ محمود قریشی کا اشاری رائے حسن نواز کی جانب تھا، ان کا ماننا تھا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے نااہل ہونے کے بعد رائے حسن نواز کا پارٹی عہدہ رکھنا اور پارٹی جلاس میں شرکت کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ عارف علوی نے کہا کہ پارلیمانی بورڈ میں کئی معاملات زیر غور آئے۔

(جاری ہے)

اجلاس میں حقائق پر بات کی گئی اور میں نے اجلاس میں سندھ میں انٹرویوز کے حوالےسے بتایا ، عارف علوی نے کہا کہ یہ بات پارٹی اجلاسوں میں کئی مرتبہ سامنے آئی کہ جہانگیرترین نا اہل ہوگئے ہیں اور انہوں نے پارٹی کے سیکرٹری جنرل کے عہدے سے استعفیٰ بھی دے دیا ہے لیکن وہ فارمل طور پر اجلاس میں شریک نہیں ہوتے البتہ ان سے مشاورت کی جاتی ہے اور ان کی تجاویز بھی لی جاتی ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں پارٹی کے سینئیر رہنماؤں شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کے مابین تلخ کلامی کی خبر سامنے آئی تھی۔ اجلاس میں شاہ محمود قریشی نے الیکشن کمیشن کی جانب سے نااہل کیے گئے پارٹی رہنما رائے حسن نواز کی اجلاس میں موجودگی پر اعتراض کیا اور کہا کہ ایک نااہل قرار دیے گئے شخص کو پارٹی کے سی ای سی اجلاس میں بھیٹنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئیے۔

جس پر جہانگیر ترین نے مداخلت کی اور کہا کہ شاہ محمود قریشی کا اشارہ ان کی طرف تھا۔ اسی بات پر اجلاس میں دونوں رہنماؤں میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔جس پر پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے مداخلت کی اور آئندہ رائے حسن نواز کو کوئی بھی پارٹی عہدہ نہ دینے کی ہدایت کی اور انہیں پارٹی کے پارلیمانی بورڈ سے ہٹانے کا اعلان بھی کیا۔ اس موقع پر جہانگیر ترین نے بھی پارٹی کو خیرباد کہنے کی پیش کش کی۔ اور کہا کہ اگر پارٹی ابھی فیصلہ کرے تو وہ گھر چلے جائیں گے ، جس کے بعد نہ تو آئندہ پارٹی کے کسی اجلاس میں شرکت کریں گے نہ ہی اس کی فیصلہ سازی میں کوئی مداخلت کریں گے۔