مشیر وزیراعظم عرفان صدیقی کی زیر صدارت اقبال اکادمی کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس، آئندہ مالی سال کے بجٹ اور مستقبل کے منصوبہ جات کی منظوری دی گئی

بدھ مئی 17:28

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 مئی2018ء) اقبال اکادمی پاکستان کے مالی سال 2018-19ء کے بجٹ اور مستقبل کے منصوبہ جات کی منظوری دیدی گئی۔ مشیر وزیراعظم برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفان صدیقی کی زیر صدارت اقبال اکادمی کے نوتشکیل شدہ بورڈ آف گورنرز (بی او جی) کے پہلے اجلاس میں ’’فروغ فکر اقبال‘‘ کے عنوان سے خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ ہوا جو بالخصوص نوجوان نسل تک علامہ اقبال کے پیغام کو پہنچانے کیلئے جامع حکمت عملی مرتب کرے گی۔

کمیٹی شاعر مشرق کے افکار عام کرنے کیلئے ٹی وی ڈراموں فلموں، نغموں کی اصناف کو بھی استعمال میں لانے کا جائزہ لے گی۔ بورڈ آف گورنرز (بی او جی) کے اجلاس میں 2019ء میں سالانہ اقبال کانفرنس کے انعقاد کی بھی منظوری دی گئی۔

(جاری ہے)

اجلاس نے 16 سال بعد اقبال کانفرنس کے انعقاد پر مشیر وزیراعظم عرفان صدیقی،، ڈویژن کے سیکرٹری اور اقبال اکادمی کے ڈائریکٹر کو مبارکباد دیتے ہوئے قرار دیا کہ کلام اقبال کی موبائل ایپلیکیشن متعارف کرانے اور کلام اقبال کا ڈیلکس ایڈیشن شائع کرنا لائق تحسین ہے۔

اجلاس نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز اقبال شناس عبدالروف رفیقی کو افغانستان،، وسط ایشیائی ریاستوں، ایران اور ترکی کیلئے سفیر اقبال تعینات کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہیں یہ ذمہ داری تفویض کی گئی کہ وہ افغانستان،، وسط ایشیائی ریاستوں، ایران اور ترکی میں علامہ اقبال کے حوالے سے کانفرنسوں اور دیگر علمی وادبی سرگرمیوں کے انعقاد کیلئے اقدامات تجویز کریں۔

اجلاس نے علامہ اقبال کے فارسی کلام کے اردو تراجم کا جائزہ لینے کیلئے بھی کمیٹی قائم کی۔ مشیر وزیراعظم عرفان صدیقی نے اس موقع پرخطاب میں وفاقی سیکرٹری انجینئر عامر حسن، قومی تاریخ وادبی ورثہ ڈویژن کے جوائنٹ سیکرٹری سیّد جنید اخلاق اور دیگر افسران، ماتحت اداروں کے سربراہان کے تعاون اور کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مشیر اور پھر وزارت کی ذمہ داریاں ایک خوشگوار تجربہ رہا۔

اب ممکن ہے میں صحافت کی طرف واپس چلا جائوں۔اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہوں کہ فروری 2016ء کے مقابلہ میں سوا دو سال کے مختصر عرصے میں جمود کا شکار بارہ اہم علمی و ادبی ادارے فعال ہو کر نئے اہداف کے حصول کیلئے سرگرم عمل ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ بھی ایک بڑی کامیابی ہے کہ 16 سال کے التواء کے بعد اقبال کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ تسلسل سے یہ کام جاری رہنا چاہئے۔

عرفان صدیقی نے کہاکہ پچاس کروڑ روپے کا انڈائومنٹ فنڈ قائم کرکے علمی وادبی سرگرمیوں اور اہل قلم کی مدد کے لئے وسائل کی کمیابی کا مسئلہ حل کردیاگیا ہے۔ مشیر وزیراعظم عرفان صدیقی نے بورڈ آف گورنر کے نئے اراکین پروفیسر احسان اکبر، پروفیسر جلیل عالی، ڈاکٹر فاطمہ حسن، ڈاکٹر روبینہ شاہین، عبد الرو ٴف رفیقی نئے نائب صدر شہزاد قیصر اور نئے خزانچی محمد شفیع کا خیر مقدم کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ ان کی رہنمائی اور مشاورت اقبال اکیڈمی کو فکرِ اقبال کے فروغ اور متعین اہداف کے حصول میں ایک نمایاں ادارہ بنا دے گی۔

انہوں نے انجینئر عامر حسن کے تعاون اور محنت کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ انہوں نے کبھی بیوروکریٹک رویہ کا اظہار نہیں کیا۔ وفاقی سیکریٹری انجینئر عامر حسن نے وزارت اور ذیلی اداروں کی جانب سے مشیر وزیراعظم عرفان صدیقی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے نہ صرف تخلیقی انداز میں اداروں کیلئے عملی راہ متعین کی بلکہ اہداف کے حصول کے لئے شاندار حسن تدبیر سے کام لیا۔

اقبال اکادمی کے بورڈ آف گورنرز کے ارکان نے بھی عرفان صدیقی کے کاوشوں کو سراہا اور اظہار تشکرکیا۔ ڈائریکٹر اقبال اکادمی محمد بخش سانگی نے اجلاس کو اکادمی کی کارکردگی، بجٹ اور مختلف منصوبہ جات کے بارے میں بریفنگ دی۔ اجلاس میں اکادمی کے نائب صدر ڈاکٹر شہزاد قیصر، رفیع الدین ہاشمی، پروفیسر احسان اکبر، جلیل عالی، ڈاکٹر محمد ضیاء الحق، ڈاکٹر فاطمہ حسن اور ڈاکٹر روبینہ شاہین نے بھی شرکت کی۔