نواز شریف عدالت میں بیان دینے کے بعد سب کے ساتھ ہاتھ کر گئے

نواز شریف نے عدالت میں سیاسی تقریر میں کئی شخصیات پر الزمات عائد کرنے کے بعد اعلان کر دیا کہ یہ بیان حلفیہ نہیں ہے

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعرات مئی 14:23

نواز شریف عدالت میں بیان دینے کے بعد سب کے ساتھ ہاتھ کر گئے
اسلام آباد(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔24 مئی 2018ء) سابق وزیراعظم نواز شریف عدالت میں بیان دینے کے بعد سب کے ساتھ ہاتھ کر گئے۔سابق وزیراعظم نواز شریف نے عدالت میں سیاسی تقریر کر کے آخر میں اعلان کر دیا کہ یہ سب حلفیہ نہیں ہے۔تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی عامر متین کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے کل جو احتساب عدالت میں بیان پڑھ کر سنایا ہے ۔

تو نواز شریف نے اپنا بیان مکمل کر لینے کے بعد آخر میں کہا کہ یہ بیان حلفیہ نہیں ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر نواز شریف کے اس بیان میں کوئی جھوٹ پکڑا جائے تو اس کو شواہد کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔جس پر کمرہ عدالت میں موجود صحافی کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے جو سوالوں کے جواب دئیے ہیں۔

(جاری ہے)

وہ حلفیہ نہیں ہیں۔اور نواز شریف سے جو 128 سوالات کیے گئے ہیں ان میں آخری تین سوال بھی یہی تھے کہ کیا آپ یہ بیان حلفیہ ریکارڈ کروانے پر تیار ہیں۔

اور کیا آپ بیانِ حلفی کے ساتھ یہ بتانے کے لیے تیار ہیں کہ آپ کے خلاف یہ کیسز کیوں بنائے گئے ہیں۔لیکن یہاں نواز شریف اور ان کے وکلا نے ایک سمارٹ موو دکھایا۔کیونکہ نواز شریف نے جو کل سیاسی تقریرکی ہے وہ حلفیہ نہیں تھی۔اگر نواز شریف یہ تقریر حلفیہ کرتے تو پھر انہوں نے جتنے بھی الزمات لگائے ہیں ان پر جرح ہوتی۔چاہئے وہ خفیہ ایجنسی کے سربراہ سے متعلق ہوں۔

یا پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان اور دھرنوں کے حوالے سے ہوں۔۔نواز شریف کو ان تمام الزامات کے ثبوت دینے پڑتے اس لیے انہوں نے حلفیہ بیان نہیں دیا۔۔نواز شریف نے اپنی جائیدادوں سے متعلق سوال پر ایک سیاسی تقریر کی اور نواز شریف نے آباؤ اجداد کی ملک کے لیے قربانیوں سے لے کر لوڈشیڈنگ،،موٹر وے یہاں تک کے مسئلہ کشمیر پر بھی بات کی۔لیکن نواز شریف نے لندن کےفلیٹوں کی رسید اور منی ٹریل سے متعلق کوئی جواب نہیں دیا۔

نواز شریف اس سے پہلے کہتے تھے ان کے پاس گواہ موجود ہیں تا ہم انہوں نے کل عدالت میں کہا کہ میں کوئی گواہ نہیں لانا چاہتا۔اور نہ ہی کوئی ڈاکیومنٹس لانا چاہتا ہوں۔اور پھر آخر میں نواز شریف سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ یہ تمام باتیں حلفا کہنا چاہیں گے تو اس سے بھی نواز شریف نے انکار کر دیا۔