’’خادم اعلی تھنک کیو ‘‘ آپ نے بہترین ہسپتال بنایا ہے

باریش نوجوان نے وزیراعلیٰ کو پھول پیش کیے اوران کا شکریہ ادا کیا مریضوں اوران کے تیمارداروں کی شہبازشریف کو دعائیں

جمعہ مئی 20:06

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال نارووال کی تعمیر نوکے منصوبے کے افتتاح کے بعد وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے مختلف وارڈز کا دورہ کیا اورمریضوں کی خیریت دریافت کی ۔ڈائیلسز سنٹر کے دورے کے دوران ایک باریش نوجوان نے وزیراعلیٰ کو پھول پیش کیے اوران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’’خادم اعلی تھنک کیو ‘‘ آپ نے بہترین ہسپتال بنایا ہے جہاں پر معیاری طبی سہولتیں میسر ہیں۔

ایک اور مریض نے شہبازشریف سے کہا کہ ہم دل سے آپ کیلئے دعائیں کرتے ہیں کیونکہ آپ دکھی انسانیت کیلئے دن رات کام کرتے ہیںاورانہوںنے شہبازشریف زندہ باد کا نعرہ بھی لگایا ۔مریضوں اوران کے تیمارداروں نے شہبازشریف کو دعائیں دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مزید ہمت عطا کرے اوردرازی عمر عطا فرمائے۔

(جاری ہے)

ایک بزرگ مریض نے وزیراعلیٰ سے کہا کہ میں یہاں سے جانا نہیں چاہتا لیکن ڈاکٹر مجھے بھیجنا چاہتے ہیں جس پر وزیراعلیٰ نے مسکرائے اوربزرگ کو دلاسہ دیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب حکومت نے ہسپتالوں میں جدید طبی سہولتیں فراہم کر کے امیر اورغریب کے علاج معالجے کیلئے تفاوت کو ختم کیا ہے اوراقبال ؒکا یہ شعر ہمارے ہسپتالوں کیلئے بہت مناسب ہے۔ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز…نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز ۔وزیراعلیٰ نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہر صورت مودی کے ہندوستا ن سے آگے بڑھ سکتا ہے اورانشاء اللہ آگے بڑھے گا لیکن اس کیلئے محنت کرنا ہوگی اوراپنا خون پسینہ بہانا ہوگا۔

اس موقع پر انہوںنے یہ اشعار پڑھے۔تمنا آبرو کی ہے اگر گلزار ہستی میں…تو کانٹوںمیں الجھ کر زندگی کرنے کی خو کر لے۔۔۔۔۔نہیں یہ شان خود داری چمن سے توڑ کر تجھ کو…کوئی دستار میں رکھ لے کوئی زیب گلو کر لے۔۔۔شہبازشریف نے یہ اشعار بھی پڑھے اورکہا کہ ان پر عمل کرنے سے ہی پاکستان اقوام عالم میں اپنا وقار حاصل کرے گا۔۔۔جب اپنا قافلہ عزم و یقین سے نکلے گا…جہاں سے چاہیں گے رستہ وہیں سے نکلے گا۔

وطن کی مٹی مجھے ایڑیاں رگڑنے دے…مجھے یقین ہے چشمہ یہیں سے نکلے گا۔آخر میں انہوںنے یہ اشعارپڑھے۔خوشبوئوں کا اک نگر آباد ہونا چاہیئے…اس نظام زر کو اب برباد ہونا چاہیے ۔۔۔ان اندھیروں میں بھی منزل تک پہنچ سکتے ہیں ہم…جگنوئوں کو راستہ تو یاد ہونا چاہیے ۔۔۔خواہشوں کو خوبصورت شکل دینے کیلئے…خواہشوں کی قید سے آزاد ہونا چاہیے ۔۔۔ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں…عدل کو بھی صاحب اولاد ہونا چاہیے ۔