قومی اسمبلی اجلاس،تحریک انصاف اور جے یو آئی(ف) نے ایک دوسرے پر سوالات اٹھا دیئے

ہمارے رکن اسمبلی قیصر جمال کے حجرے پرجے یو آئی (ف) کے ورکرز کی طرف سے حملہ ہوا ہے، یہ کس نے کیا ہے،فاٹا کا انضمام ہو گیا ہے تو کیا ہمارے ارکان کے حجرے توڑے جائیں گے،، شیریں مزاری پشاور میں فاٹا کے مظاہرین پر جو لاٹھی چارج ہوا، ظلم ہوا، اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، وہ پر امن احتجاج تھا، ہم نے 120دن دھرنا برداشت کیا، کسی نے ان پر لاٹھی چارج نہیں کیا ،معاملے کی انکوائری ہونی چاہیے، کہا جاتا ہے کہ خیبر پختونخوا کی پولیس غیر سیاسی ہو چکی ہے، ان کو کس نے حکم دیا، نعیمہ کشور کاقومی اسمبلی میں اظہار خیال

پیر مئی 20:38

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 مئی2018ء) قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف اور جے یو آئی(ف) نے ایک دوسرے پر سوالات اٹھا دیئے ، شیریں مزاری نے کہا کہ ہمارے رکن اسمبلی قیصر جمال کے حجرے پرجے یو آئی (ف) کے ورکرز کی طرف سے حملہ ہوا ہے، یہ کس نے کیا ہے،،فاٹا کا انضمام ہو گیا ہے تو کیا ہمارے ارکان کے حجرے توڑے جائیں گے، نعیمہ کشور نے کہا کہ پشاور میں فاٹا کے مظاہرین پر جو لاٹھی چارج ہوا، ظلم ہوا، اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، وہ پر امن احتجاج تھا، ہم نے 120دن دھرنا برداشت کیا،، کسی نے ان پر لاٹھی چارج نہیں کیا ،معاملے کی انکوائری ہونی چاہیے، کہا جاتا ہے کہ خیبر پختونخوا کی پولیس غیر سیاسی ہو چکی ہے، ان کو کس نے حکم دیا۔

پیر کو قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کی رکن اسمبلی شیریں مزاری نے نکتہ اعتراض پر بات کر تے ہوئے کہا کہ ہمارے رکن اسمبلی قیصر جمال کے حجرے پرجے یو آئی (ف) کے ورکرز کی طرف سے حملہ ہوا ہے، یہ کس نے کیا ہے،،فاٹا کا انضمام ہو گیا ہے تو کیا ہمارے ارکان کے حجرے توڑے جائیں گے۔

(جاری ہے)

سپیکر نے کہا کہ ہمیں مذمت کرنی چاہیے، یقین رکھتا ہوں کہ یہ جے یو آئی کی ہدایات نہیں ہوں گی۔

جے یو اآئی (ف) کی رکن اسمبلی نعیمہ کشور نے کہا کہ ہم قیصر جمال کے حجرے پر حملے مذمت کرتے ہیں ہماری جماعت نے کبھیقانون ہاتھ میں نہیں لیا انہوںنے کہا کہ کل پشاور میں فاٹا کے مظاہرین پر جو لاٹھی چارج ہوا، ظلم ہوا، اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، وہ پر امن احتجاج تھا، ہم نے 120دن دھرنا برداشت کیا،120کے دھرنے میں کس طرح ہم آئے تھے، کس طرح پارلیمنٹ کی بے عزتی ہوئی، کسی نے ان پر لاٹھی چارج نہیں کیا لیکن فاٹا والوں پر لاٹھی چارج کیا گیا، اس کی انکوائری ہونی چاہیے، کہتے ہیں خیبر پختونخوا کی پولیس غیر سیاسی ہو چکی ہے، ان کو کس نے حکم دیا۔