شیخ رشید، عمران خان اور مولانا فضل الرحمن کو سب سے زیادہ سیکیورٹی افسر فراہم کیے جانے کا انکشاف

شیخ رشید احمد کو 5 سیکیورٹی افسران ،ْ عمران خان اور مولانا فضل الرحمٰن کو 4، 4 افسر فراہم کیے گئے ،ْ سیکرٹری داخلہ

منگل مئی 14:12

شیخ رشید، عمران خان اور مولانا فضل الرحمن کو سب سے زیادہ سیکیورٹی افسر ..
ْ اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) حکومت کی جانب سے بتایا گیا ہے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ،ْعوامی مسلم لیگ کے صدر شیخ رشید احمد اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو سرکاری خرچ پر سب سے زیادہ سیکیورٹی افسر فراہم کیے گئے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ کے خصوصی سیکریٹری رضوان ملک نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بتایا کہ شیخ رشید احمد کو 5 سیکیورٹی افسران فراہم کیے گئے ،ْ عمران خان اور مولانا فضل الرحمٰن کو 4، 4 افسر فراہم کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ مختلف ایجنسیوں کی جانب سے سیکیورٹی خطرات کی نشاندہی کے باعث ان شخصیات کو سیکیورٹی افسر فراہم کیے گئے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ افسران کو مقرر کرنے میں کوئی تفریق نہیں کیونکہ کسی کو بھی سیکیورٹی کی ضرورت ہوسکتی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ ان شخصیات کے علاوہ سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی،، وسیم سجاد اور نیئر حسین بخاری، سابق وزیر قانون زاہد حامد، سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور رحمٰن ملک، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شیری رحمن اور وفاقی ٹیکس محتسب مشتاق احمد سکھیرا کو دو سیکیورٹی افسران فراہم کیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ جموں اینڈ کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک، وفاقی محتسب کشمالہ طارق اور دیگر اداروں کے سربراہوں کو ایک ایک افسر فراہم کیا گیا۔اس دوران کمیٹی کے رکن سینیٹر چوہدری تنویر نے سوال کیا کہ کس طرح شیخ رشید احمد سب سے زیادہ سیکیورٹی کا حقدار سمجھا جاتا ہی یہ نہ انصافی ہے کہ 2 پولیس کی گاڑیاں ہر وقت ان کے ساتھ ہوتی ہیں۔

سیکریٹری داخلہ نے جواب دیا کہ شیخ رشید پر پہلے خود کش حملہ ہوچکا ہے جبکہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل سیکیورٹی وقار چوہان کا کہنا تھا کہ شیخ رشید کو صرف وفاقی دارالحکومت کی حدود کے درمیان اسلام آباد پولیس کی جانب سے سیکیورٹی فراہم کی جاتی ہے۔اس موقع پر اجلاس میں مدعو کیے گئے جے یو آئی (ف) کے مولانا عبدالغفور حیدری نے وزارت داخلہ کے دعوے کو مسترد کیا کہ ہر فرد کو خطرات کے حساب سے سیکیورٹی دی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے کسی ایجنسی نے سیکیورٹی خطرات سے آگاہ نہیں کیا تھا لیکن 12 مئی 2017 کو مجھ پر بلوچستان میں حملہ ہوا، جس میں 26 افراد جاں بحق اور 50 کے قریب زخمی ہوئے، تاہم میں خوش قسمتی سے محفوظ رہا تھا۔انہوںنے کہاکہ جب میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ تھا تو مجھے سیکیورٹی فراہم کی جاتی تھی لیکن اس کے بعد متعدد درخواستوں کے باوجود مجھے ایک افسر تک فراہم نہیں کیا گیا۔عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ میں نے اس معاملے پر پولیس سربراہان، یہاں تک کہ وزارت داخلہ تک کو خط لکھا لیکن کسی نے میرے معاملے پر توجہ نہیں دی۔مولانا غفور حیدری کے اعتراض پر سینیٹر جاوید عباسی نے کا کہنا تھا کہ آپ کو فراہم کی گئی سیکیورٹی چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کے حکم کے بعد واپس لی گئی۔