عاصمہ حامد پنجاب کی پہلی خاتون ایڈووکیٹ جنرل تعینات، پی ٹی آئی کا تعیناتی کالعدم قرار دینے کا مطالبہ

شہباز شریف کی وزارتِ اعلیٰ چھوڑنے سے چند گھنٹے قبل اہم ترین تعیناتی قابل تشویش ہے، عاصمہ حامد کے والد شاہد حامد اور چچا زاہد حامد شریف خاندان کے وفادار ہیں، پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر اور نگران وزیراعلی پنجاب کو خط

منگل مئی 18:11

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) عاصمہ حامد کو ایڈووکیٹ جنرل پنجاب تعینات کردیا گیا تاہم پاکستان تحریک انصاف نے عاصمہ حامد کی ایڈووکیٹ جنرل پنجاب تعیناتی کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہباز شریف کی وزارتِ اعلی چھوڑنے سے چند گھنٹے قبل اہم ترین تعیناتی قابل تشویش ہے، عاصمہ حامد کے والد شاہد حامد اور چچا زاہد حامد شریف خاندان کے وفادار ہیں۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق زیراعلی پنجاب شہباز شریف کی جانب سے عاصمہ حامد کی بطور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب تعیناتی کی منظوری کے بعد سیکرٹری قانون نے باقاعدہ نوٹی فکیشن جاری کردیا۔ عاصمہ حامد ملکی تاریخ کی پہلی ایڈووکیٹ جنرل پنجاب ہیں۔دوسری جانب تحریک انصاف نے عاصمہ حامد کی تعیناتی کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کر دیاہے۔ تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر اور نگران وزیراعلی پنجاب کو خط لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف کی جانب سے وزارتِ اعلی چھوڑنے سے چند گھنٹے قبل اہم ترین تعیناتی قابل تشویش ہے، عاصمہ حامد کے والد شاہد حامد اور چچا زاہد حامد شریف خاندان کے وفادار ہیں، بادی النظر میں عاصمہ حامد کو شریف خاندان سے وفاداری نبھانے کے عوض تعینات کیا گیا۔