سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے پوسٹل سروسز کا اجلاس

وزارت پوسٹل سروسز کے کام کے طریقہ کار ،کارکردگی بجٹ ، عوام کو فراہم کردہ سہولیات اور ادارے کو درپیش مسائل کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا

منگل مئی 21:55

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے پوسٹل سروسز کا اجلاس چیئر پرسن کمیٹی سینیٹر خوش بخت شجاعت کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا ۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت پوسٹل سروسز کے کام کے طریقہ کار ،کارکردگی بجٹ ، عوام کو فراہم کردہ سہولیات اور ادارے کو درپیش مسائل کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔

سیکرٹر ی وزارت پوسٹل سروسز حامد ہارون اور ڈائریکٹر جنرل پاکستان پوسٹل سروسز روبینہ طیب نے قائمہ کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ ادارہ بہت پرانا ہے ۔ایکٹ1898 کے تحت ڈاکخانہ جات کا محکمہ قائم کیا گیا تھا ۔1947 میں پاکستان پوسٹ آفس نے پی ٹی این ٹی وزارت مواصلات کے ساتھ اپریشن شروع کیا ،1962 میں ٹی این ٹی سے علیحدہ کر دیا گیا ۔

(جاری ہے)

1992-96 میں محکمہ کو کارپوریشن بنادیا گیا ۔ 2002 کے آرڈنینس کے تحت پاکستان پوسٹل سروسز منیجمنٹ بورڈ تشکیل دیا گیا ۔نومبر2008 میں پوسٹل سروسز وزارت قائم کی گئی جسے جون2013 میں ختم کر دیا گیا اور اگست 2017 سے پھر وزارت بنا دی گئی ۔ پاکستان پوسٹ یونیورسل پوسٹل یونین کا ممبر بھی ہے جس کا ہیڈ آفس سویٹزرلینڈ میں ہے ۔اس یونین کے 192 ممبرز ہیں ۔ڈائریکٹر جنرل پوسٹ آفس روبینہ طیب نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان میں کل 11496 ڈاکخانہ جات ہیں اور ایک ڈاکخانہ 14 ہزار عوام کو سہولیات دیتا ہے ۔

85 فیصد دیہی علاقوں میں پوسٹ آفس سہولیات فراہم کر تا ہے ۔کل ملازمین کی تعداد47348 ہے جن میں سے 31635 مستقل اور15713 عارضی ملازمین ہیں ۔پورے ملک میں37122 پوسٹ باکسز اور13001 لیڑ باکسز ہیں۔ادارے کے پاس 424 گاڑیاں ہیں اور روزانہ پانچ ارب کی ٹرانزکشن ہوتی ہے ۔قائمہ کمیٹی نے ملازمین کی صوبہ وار تفصیلات آئندہ اجلاس میں طلب کر لیں ۔قائمہ کمیٹی کو بتایاگیا کہ ملک میں 8 پوسٹل سرکل اور 7 پوسٹل ریجنز ہیں جبکہ 73 پوسٹل ڈویژن ہیں اور ڈسٹرکٹ میل آفس 53 ہیں ۔

قائمہ کمیٹی کو بتایاگیا کہ گزشتہ 12 سالوں کے دوران ادارے میں کوئی تقرری نہیں کی گئی جس کی وجہ بھرتیوں پر پابندی تھی ۔ پابندی ختم ہونے پر گریڈ1 سی5 کی 650 تقرریاں عمل میں لائی گئیں ہیں جبکہ سینکڑوں کے تعداد میں ابھی پوسٹیں خالی ہیں ۔جس پرقائمہ کمیٹی نے الیکشن کمیشن کی طرف سے عائد کردہ بھرتیوں پر پابندی کے خاتمہ پر دو ماہ کے اندر بھرتیاں مکمل کر کے رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت کر دی ۔

سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ کی گئی بھرتیوں کے حوالے سے میڈیا میں کافی منفی خبریں بھی آرہی ہیں جس کاکمیٹی نے آئندہ اجلاس میں جائزہ لینے کا بھی فیصلہ کیا ۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ جدید تقاضوں کے مطابق محکمے میں سہولیات متعارف کرانے کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ۔83 پوسٹل آفسز کو کمپیوٹرائزڈ کر دیا گیا ہے ۔یو ایم ایس ، ایکسپریس میل ، فیکس میل ،منی آرڈر سروسز کے علاوہ دیگر کئی سہولیات متعارف کرائی گئیں ہیں جس پر اراکین کمیٹی نے کہا کہ نئی سہولیات کی تشہیر کر کے عوام کے علم میںلانا بہت ضروری ہے اور اس حوالے سے پی ٹی وی کی خدمات بھی حاصل کی جاسکتی ہیں ۔

قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کو فنڈز کی کمی کا بہت زیادہ سامنا ہے ۔2010 میںحکومت نے ٹیکس کٹوتی کی شرح 1.5 سے کم کر کے 0.5 کر دی جو ادارہ صارفین سے وصول کرتا تھا ۔ اس کے بعد ادارہ خسارے میں جانا شروع ہوا اور مالی سال 2016-17 میں یہ خسارہ دس ارب تک پہنچ چکا ہے ۔قائمہ کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ پانچ ارب کی پنشن بھی ہے جس کو ہمارے خرچے میں ظاہر کیا جاتا ہے اور بجٹ کا 81 فیصد تنخواہوں اور پنشن کی مد میںملازمین کو ادا کر دیا جاتا ہے صرف19 فیصد بجٹ ادارے کی کارکردگی کو بہتر کرنے اورپرانے دفاتر کی تعمیرومرمت پر خرچ ہوتا ہے ۔

قائمہ کمیٹی وفاقی حکومت سے مسائل کے حل کیلئے ادارے کی مدد کرے ۔ ادارے کی کارکردگی کو زیادہ سے زیادہ موثر بنانے کے حوالے ایک ایجنڈا تیار کیا گیا ہے جس سے وزیراعظم پاکستان سے شیئر بھی کیا گیا ہے جس میں پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ، موبائل منی آرڈر سلوشن ، پاکستان پوسٹ لو جسٹک کمپنی اور ری بینڈنگ آف پاکستان پوسٹ شامل ہے ۔ چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر خوش بخت شجاعت نے کہاکہ وزارت پوسٹل سروسز انتہائی اہم ادارہ ہے جس کی بہت زیادہ رسائی غریب عوام تک ہے اور غریب عوام کو سہولیات فراہم کر کے ان کے مسائل میں کمی لائی جا سکتی ہے ۔

ادارے کی کارکردگی کو بہتر کرنے اور مسائل کے حل کیلئے زیادہ سے زیادہ اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر ز رانا مقبول احمد ، میر کبیراحمد محمد شاہی ، انور لال دین ، نسیم اللہ بازئی اور مشتاق احمد کے علاوہ سیکرٹری وزارت پوسٹل سروسزحمید ہارون ، ڈی جی پاکستان پوسٹ روبینہ طیب ، ڈائریکٹر آئی پی ایس حافظ شکیل احمد و دیگر حکام نے شرکت کی ۔