پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کا جنگ بندی معاہدے کی پاسداری پر اتفاق

ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان خصوصی ہاٹ لائن رابطہ ،کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری کے اطراف موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا ،آئی ایس پی آر

منگل مئی 23:20

راولپنڈی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) نے رابطہ کرکے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ((آئی ایس پی آر)) کے مطابق پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان خصوصی ہاٹ لائن رابطہ ہوا۔دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز نے کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری کے اطراف موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا اور صورتحال میں بہتری کے لیے مخلصانہ اقدامات اٹھانے، امن کو یقینی بنانے اور سرحد کے قریب رہائش پذیر شہریوں کی مشکلات کم کرنے پر باہمی طور پر اتفاق کیا۔

انہوں نے 2003 کے جنگ بندی معاہدے پر فوری طور پر مکمل عملدرآمد کرنے اور کسی بھی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی نہ کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

(جاری ہے)

دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ کسی مسئلے کی صورت میں تحمل کا مظاہرہ کیا جائے گا اور معاملہ ہاٹ لائن رابطے اور مقامی کمانڈروں کی سطح پر سرحدی فلیگ میٹنگز کے موجودہ نظام کے ذریعے حل کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ماضی قریب میں لائن آف کنٹرول پر کئی بار سیز فائر کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں اور بھارت کی جانب سے سرحد کے اس پار بلااشتعال فائرنگ کے واقعات میں ستمبر 2016 کے بعد تیزی آئی۔۔بھارتی فوج کی جانب سے بھاری گولہ باری کے علاوہ چھوٹے ہتھیاروں سے شہری آبادیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔رواں سال 15 مئی تک بھارت کی اشتعال انگیزی سے چھ خواتین سمیت 21 افراد ہلاک جبکہ 119 زخمی ہوئے۔اسٹیٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (ایس ڈی ایم ای) کے مطابق 2017 میں بھارت کی بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری سے 46 شہری ہلاک اور 262 زخمی ہوئے تھے۔