اسحاق ڈار اثاثہ جات ریفرنس ،ْ

استغاثہ گواہ مسعود الغنی پر وکیل صفائی کی جرح مکمل سپریم کورٹ کے پاناما کیس فیصلے کی روشنی میں نیب نے اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا ریفرنس دائر کیا تھا ایڈووکیٹ حشمت حبیب کے معاون وکیل عدنان شجاع نے عمرے پر جانے کے لیے احتساب عدالت سے اجازت مانگ لی پہلے ہی ملزم کے سینئر وکیل حشمت حبیب بیماری کے باعث نہیں آ رہے، ٹرائل جاری ہے ،ْاس مرحلے پر آپ کیسے جا سکتے ہیں جج کے ریمارکس

بدھ مئی 14:18

اسحاق ڈار اثاثہ جات ریفرنس ،ْ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق نیب ریفرنس کی سماعت کے دوران نجی بینک کے افسر مسعود الغنی پر وکیل صفائی کی جرح مکمل ہوگئی۔ بدھ کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اسحاق ڈار کے خلاف کیس کی سماعت کی۔واضح رہے کہ 24 مئی کو استغاثہ کے گواہ مسعود الغنی کا بیان ریکارڈ کیا گیا تھا اور وکیل صفائی نے جرح کا آغاز کیا تھا تاہم وہ مکمل نہ ہوسکی تھی۔

سماعت میں وکیل صفائی قاضی مصباح نے گواہ مسعود الغنی پر جرح مکمل کرلی۔۔سماعت کے دوران ایڈووکیٹ حشمت حبیب کے معاون وکیل عدنان شجاع نے عمرے پر جانے کے لیے احتساب عدالت سے اجازت مانگ لی۔جس پر جج محمد بشیر نے ریمارکس دیئے کہ پہلے ہی ملزم کے سینئر وکیل حشمت حبیب بیماری کے باعث نہیں آ رہے، ٹرائل جاری ہے، اس مرحلے پر آپ کیسے جا سکتے ہیں اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر عمران شفیق نے کہا کہ یہ ٹرائل سپریم کورٹ کی ہدایت پر چل رہا ہے ،ْ یہ سب تاخیری حربے ہیں اور کیس کو چلنے نہیں دیا جا رہا۔

(جاری ہے)

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ 4 سماعتوں میں ایک گواہ پر جرح مکمل نہیں ہو سکی۔جج محمد بشیر نے معاون وکیل سے استفسار کیا کہ حشمت حبیب کب تک آئیں گی اور کب جرح کریں گی جس پر معاون وکیل عدنان شجاع نے جواب دیا کہ حشمت حبیب جیسے ہی بہتر ہوں گے آ جائیں گے۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے 28 جولائی 2017 کے پاناما کیس فیصلے کی روشنی میں نیب نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف ا?مدن سے زائد اثاثے بنانے کا ریفرنس دائر کیا تھا۔