الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں پر مذہب کے نام پر انتخابی مہم چلانے پر پابندی عائد کردی

انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہونے کے بعد الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق بھی تیار کر لیا

muhammad ali محمد علی بدھ مئی 20:46

الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں پر مذہب کے نام پر انتخابی مہم چلانے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 مئی2018ء) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہونے  کے بعد انتخابات کیلئے ضابطہ اخلاق بھی تیار کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ ہفتے صدر مملکت ممنون حسین نے ملک میں عام انتخابات کیلئے 25 جولائی کی تاریخ کی منظوری دے دی تھی۔ صدر مملکت نے وزیراعظم کی جانب سے بھیجی گئی سمری کی منظوری دیتے ہوئے ملک میں 25 جولائی کو انتخابات کروانے کا اعلان کیا تھا۔

اس حوالے سے اب الیکشن کمیشن کی جانب سے بھی اعلان کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ 25 جولائی کو ملک میں عام انتخابات کروانے کیلئے تیار ہے۔ جبکہ انتخابات میں صرف 2 ماہ کا وقت باقی رہ جانے کے باعث الیکشن کمیشن نے انتخابات کیلئے ضابطہ اخلاق بھی تیار کر لیا ہے۔

(جاری ہے)

الیکشن کمیشن کی جانب سے تیار کیے گئے ضابطہ اخلاق میں سب سے بڑی پابندی انتخابی مہم کے دوران مذہب کے استعمال پر لگائی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں پر پابندی عائد کی ہے انہیں کسی صورت مذہب کے نام پر انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن نے انتخابات کیلئے ضابطہ اخلاق کو مزید موثر کرنے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو بھی طلب کیا ہے۔ اس کے علاوہ ضابطہ اخلاق میں مزید کہا گیا ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت ایک حلقے میں ایک سے زائد بار جلسہ نہیں کر سکے گی۔ اس کے علاوہ انتخابی مہم کے دوران اسلحے کے استعمال اور نمائش پر بھی مکمل طور پر پابندی عائد ہوگی۔ واضح رہے کہ ہر انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن کی جانب سے ضابطہ اخلاق تیار کیا جاتا ہے۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس مرتبہ الیکشن کمیشن اپنے ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل کروا پاتا ہے یا نہیں۔