سپریم کورٹ نے میاں ثاقب نثار نے ڈینگی ملازمین انتقامی کارروائی کے احکامات پر عمل درآمد معطل کر دیا

جمعہ جون 21:29

سپریم کورٹ نے میاں ثاقب نثار نے ڈینگی ملازمین انتقامی کارروائی کے احکامات ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) سپریم کورٹ نے میاں ثاقب نثار نے ڈینگی ملازمین انتقامی کارروائی کے احکامات پر عمل درآمد معطل کر دیا ہے اور ڈینگی ملازمین پر پولیس تشدد کی عدالتی تحقیقات مکمل کرنے کیلئے وقت دے دیا ہے۔۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ڈینگی ملازمین پر پولیس تشدد کے معاملے پر سماعت کی چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ کے روبرو سرکاری وکیل نے جوڈیشل انکوائری رپورٹ جمع کرانے کے لئے مہلت مانگی۔

بنچ کے استفسار پر سرکاری وکیل نے نشاندہی کی کہ ملازمین کام پر واپس نہیں آ رہے۔ جس پر ملازمین نے بتایا کہ انتظامیہ غلط بیانی سے کام لے رہی ہی. سپریم کورٹ کے حکم پر تمام ملازمین فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ملازمین نے بتایا کہ احتجاج کرنے کی پاداش میں انہیں ملازمت سے برخاست کیا جا رہا ہے۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ کس نے ملازمت سے نکالا ہے اس کا نام بتائیں۔

اس پر ملازمین نے بتایا کہ سی ای او ہیلتھ لاہور ڈاکٹر شہناز نے نوکری سے نکالنے کے احکامات دیئے اس پر چیف جسٹس پاکستان نے برہمی کا اظہار کیا اور ڈاکٹر شہناز کو مخاطب کیا کہ آپ وہی ہیں ناں جس نے مجھ سے بغیر اجازت میرے چیمبر میں ملنے کی کوشش کی۔ چیف جسٹس پاکستان نے باور کرایا کہ ہمت کیسے ہوئی اس معاملے میں مجھ سے ملنے کی۔سرکاری وکیل نے بتایا کہ ڈینگی ملازمین پر پولیس تشدد پر عدالتی تحقیقات ہو رہی ہے جس پر چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں کارروائی آئندہ سماعت تک ملتوی کر دی ۔ وقار)