الیکشن کمیشن کا نامزدگی فارم اور حلقہ بندیوں بارے ہائیکورٹس کے فیصلوں پر سپریم کورٹ جانے کا اعلان

ہفتہ جون 15:11

الیکشن کمیشن کا نامزدگی فارم اور حلقہ بندیوں بارے ہائیکورٹس کے فیصلوں ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2018ء) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نامزدگی کے فارم کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ اورحلقہ بندیوںکو کالعدم قرار دینے کے بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلوں پر سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ عام انتخابات 25 جولائی کو ہی ہونگے تاہم الیکشن شیڈول میں دو، تین دن کی گنجائش موجود ہے،حالیہ ٹرانسفر اور پوسٹنگز کا نوٹس لے لیا ہے،اس حوالے سے متعلقہ حکومتوںسے وضاحت طلب کی گئی ہے،کوئی بھی نگران حکومت یا اتھارٹی الیکشن ایکٹ کے تحت الیکشن کمیشن کی پیشگی اجازت کے بغیر کسی بھی سرکاری ملازم کی تعیناتی یا تبادلہ نہیں کرسکتی، کمیشن الیکشن 2018ء کے حوالے سے سول اور پولیس افسران کے مرکز ،صوبوں یا بین الصوبائی تبادلوں اور تعیناتی کے حوالے سے اگلے دو تین روز میں احکامات جاری کرے گا۔

(جاری ہے)

ہفتہ کو چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار محمد رضا کی زیر صدارت ہونیوالے اجلاس میں الیکشن کمیشن کے چاروں ممبران، سیکرٹری الیکشن کمیشن ، ایڈیشنل سیکرٹری اور دیگر حکام شریک ہوئے۔ اجلاس کے دوران لاہور ہائیکورٹ کے نامزدگی فارم سے متعلق فیصلہ اور حلقہ بندیاں کالعدم قرار دینے سے متعلق فیصلوں کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے بعد جاری کئے گئے اعلامئے کے مطابق الیکشن کے سلسلے میں دیگر امور جن میں سرکاری افسران کی پوسٹنگ وتعیناتی شامل ہے بھی زیر غور آئے۔

تفصیلی بحث وتمحیص کے بعد الیکشن کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کے نامزدگی فارم کے حوالے سے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کیا ۔ اعلامئے کے مطابق بلوچستان ہائیکورٹ میں کوئٹہ کی آٹھ صوبائی اسمبلی کی حلقہ بندیوں کو کالعدم قراردیا تھا۔ الیکشن کمیشن اس فیصلے کیخلاف بھی فوری طور پر سپریم کورٹ سے رجوع کرے گا۔ بیان کے مطابق عدالت عظمی کے حکم یا فیصلے کے بعد ریٹرننگ افسران کو تازہ ہدایات جاری کی جائینگی۔

بیان کے مطابق کوئی بھی نگران حکومت یا اتھارٹی الیکشنز ایکٹ کے تحت الیکشن کمیشن کی پیشگی اجازت کے بغیر کسی بھی سرکاری ملازم کی تعیناتی یا تبادلہ نہیں کرسکتی۔ اعلامئے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن 2018ء کے حوالے سے سول اور پولیس افسران کے مرکز اور صوبوں یا بین الصوبائی تبادلوں اور تعیناتیوں کے حوالے سے اگلے دو ، تین روز میں احکامات جاری کرے گا۔

اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ایڈیشنل سیکرٹری اختر نذیر نے کہا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیاہے کہ تین اور چار جون کو کاغذات نامزدگی وصول نہیں کرینگے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ملک بھر میں عام انتخابات 25 جولائی کو ہی ہونگے اس حوالے سے ریٹرننگ افسران کو تازہ ہدایات جاری کی جائینگی۔انہوں نے کہا کہ حلقہ بندیوں اور کاغذات نامزدگی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ اور بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلوں کیخلاف سپریم کورٹ جائینگے۔

اب عدالت کے تازہ فیصلے کے بعد ہی کمیشن کوئی حتمی فیصلہ کریگا۔ اختر نذیر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ الیکشن شیڈول میں دو، تین دن کی گنجائش موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے حالیہ ٹرانسفر اور پوسٹنگز کا نوٹس لیا ہے۔ سندھ میں الیکشن کمیشن کی اجازت کے بغیر سینئر افسر کی تعیناتی کی گئی اس حوالے سے متعلقہ حکومتوں سے وضاحت طلب کی ہے اور کمیشن ایسی تمام تقرریوں اور تبادلوں کا جائزہ لیکر حتمی احکامات جاری کرے گا۔

دوسری جانب نجی ٹی وی کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسران کو کاغذات نامزدگی کی وصولی سے روک دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے موجودہ صورتحال کا ذمہ دار انتخابی اصلاحات کمیٹی کو قرار دیا ۔ الیکشن کمیشن حکام کے مطابق زاہد حامد، انوشہ رحمن، شیری مزاری اور نوید قمر فارم تبدیلی میں پیش پیش رہے۔انتخابی اصلاحات کمیٹی الیکشن کمیشن حکام پر سخت تنقید کرتی رہی، کئی کمیٹی ارکان تعلیمی قابلیت کا خانہ بھی ختم کرانے پر اصرار کرتے رہے۔

واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے گزشتہ روز کاغذات نامزدگی میں ترامیم کالعدم قرار دے کر الیکشن کمیشن کو نئیکاغذات نامزدگی تیار کرنے کا حکم دیا تھا۔۔لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو کاغذات نامزدگی کے فارم اے اور بی میں تمام خامیاں دور کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پارلیمنٹ نے ترمیم کرکے قرضہ جات اور نادہندگی کے جو خانے نکالے ہیں، وہ فارم میں موجود سمجھے جائیں گے۔اپنے 39 صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت عالیہ کا کہنا تھا کہ نئے کاغذات نامزدگی میں آئین کے آرٹیکل 62 اور 63کے تقاضے دوبارہ شامل کیے جائیں۔یاد رہے کہ ملک میں عام انتخابات 2018 کیلئے 25 جولائی کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔