چیئرمین ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی سے بلوچستان نیشنل پارٹی وفد کی ملاقات

بلوچستان کی سیاست اور کوئٹہ شہر کی صورتحال کا تقاضا ہے کہ صوبے کی جمہوری سیاسی قیادت حقیقی عوامی نمائندوں کی کامیابی کو یقینی بنانے کے سلسلے میں ٹھوس اور واضح پروگراموں کے ساتھ عوام کے پاس جا کر انھیں سیاسی قیادت کے انتخاب کیلئے کردار ادا کرنے پر آمادہ کریں، مشترکہ موقف پر زور

ہفتہ جون 22:45

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2018ء) ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیرمین عبدالخالق ہزارہ سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے جنرل سکیرٹری و سینیٹر ڈاکڑ جہانزیب جمالدینی کی قیادت میں ایک وفد نے HDP کے مرکزی دفتر میں ملاقات کی ، اس موقع پر HDP کے جنرل سکیرٹری احمد علی کوہزاد،نائب چیرمین اول محمد رضا وکیل، مرکزی کونسل کے اراکین ڈاکڑ اصغر علی چنگیزی،محمد اسماعیل چنگیزی، ضلعی صدر ساحل ہزارہ،ضلعی سکیرٹری و کونسلر بوستان علی کشمند بھی موجود تھے،وفد میں موسیٰ جان بلوچ،عبدالروف منیگل، سردار عمران بنگلزئی شامل تھے۔

اس موقع پر دونوں جماعتوں کی قیادت نے انتخابات2018 میں مشترکہ موقف اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی سیاست اور کوئٹہ شہر کی صورتحال کا تقاضا ہے کہ صوبے کی جمہوری سیاسی قیادت حقیقی عوامی نمائندوں کی کامیابی کو یقینی بنانے کے سلسلے میں ٹھوس اور واضح پروگراموں کے ساتھ عوام کے پاس جا کر انھیں سیاسی قیادت کے انتخاب کیلئے کردار ادا کرنے پر آمادہ کریں،اجلاس میں بلوچستان ہائی کورٹ کی جانب سے حلقہ بندیوں میں ترمیم کے احکامات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایک مخصوص لسانی گروہ کو مجوزہ ترامیم کی تجویز کی بنیاد پر جس طرح کوئٹہ شہر کے 8 صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں ردو بدل کے احکامات جاری کئے گئے ہیں ،اس کی وجہ سے کوئٹہ کے شہریوں سمیت پورے بلوچستان کے عوام میں تشویش پیدا ہو گئی ہیں ،اس طرح کے مجوزہ ترامیم جس میں کوئٹہ کے شہریوں کے بنیادی آئینی و قانونی حقوق متاثر ہوتا ہو ، کسی صورت قابل قبول نہیں ہو سکتا۔

(جاری ہے)

دونوں جماعتوں نے فیصلہ کیا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی تشکیل کردہ حلقہ بندیاں صوبے کے عوام کے بہترین مفاد میں ہے ،اس کیلئے دونوں جماعتیں فوری طور پر بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرینگی اور ہر ممکن جد و جہد کا راستہ اپنا کر کوئٹہ کے شہریوں اور صوبے کے عوام کے حقوق کے حصول کیلئے کوشش کریںگی،دونوں جماعتوں کے قیادت نے بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اتوار11.30 صبح پریسکلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا ،مظاہرے میں کوئٹہ شہر کے قبائلی اشخاص،سماجی کارکن،معززین، اور مختلف مکاتب فکر کو شرکت کی دعوت دی گئی۔