56 کمپنیوں میں مبینہ کرپشن سے متعلق کیس کی سماعت میں چیف جسٹس اور شہباز شریف کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ خیال

میں نے محنت کی اور ملک کا اربوں روپیہ بچایا،مجھےکسی کتے نے کاٹا تھا جو میں بچت کرتارہاہوں۔معافی چاہتاہوں سخت الفاظ واپس لیتاہوں،دوران سماعت شہباز شریف کا چیف جسٹس سے مکالمہ

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان اتوار جون 14:42

56 کمپنیوں میں مبینہ کرپشن سے متعلق کیس کی سماعت میں چیف جسٹس اور شہباز ..
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔03 جون 2018ء) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی جانب سے 56 کمپنیوں میں مبینہ کرپشن سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران طلب کرنے پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف عدالت پہنچ گئے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان چھٹی کے روز بھی مختلف کیسز کی سماعت کر رہے ہیں۔ 56 کمپنیوں میں مبینہ کرپشن سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران عدالت کے روبرو پیش ہونے پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا کہ ایسی کمپنیاں پہلی بار نہیں بنائی گئیں۔

چیف جسٹس نے شہباز شریف سے استفسار کیا کہ مجاہد شیر دل کو اتنی تنخواہ کیوں دی جارہی ہے؟ ان میں کیا خوبی ہے کہ انہیں 10 لاکھ روپے تنخواہ دی گئی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ لوگ آپ سے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں جس پر شہباز شریف نے کہا کہ مجھے بات کرنے دیں آپ جو بھی رولنگ دیں گے قبول ہوگی۔

(جاری ہے)

اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نہ بھی کریں توآپ کوبات کرنی ہوگی، ملک میں قانون کی عمل داری چلے گی۔

شہباز شریف نے کہا کہ آپ مجھےکل بلالیں میں تفصیل لےکرآؤں گا۔تو چیف جسٹس نے کہا کہ میں آپ کےاحتساب کے لیے نہیں بیٹھا۔احتساب کے لیے کوئی اورادارہ ہے وہ اپنا کام کرے گا۔۔شہباز شریف نے کہا کہ آپ ملک کی عدالت کے سب سے بڑے جج ہیں، جوبھی فیصلہ کریں گےمجھے قبول ہے،تو چیف جسٹس نے کہا کہ یہ پیسہ واپس آناچاہیے،آپ کریں گے یاجن لوگوں نےیہ پیسا لیاہے؟۔

۔۔چیف جسٹس کا دوران سماعت کہنا تھا کہ میں نےآپ کومخصوص سوال کےجواب کے لیے بلایا ہے۔آپ اپنی ذات کوکیوں باربارلےآتےہیں؟آپ بتائیں کہ کیپٹن(ر)عثمان کوصاف پانی کمپنی میں 14 لاکھ روپےتنخواہ کس قانون کےتحت دی گئی؟ چیف جسٹس نے شہباز شریف کے جوابات سننے کے بعد کہا کہ میں آپ کے جواب سے غیر مطمئن ہوں۔۔چیف جسٹس نے شہباز شریف کے عدالت میں دئیے گئے جوابات مسترد کر دئیے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میں نے محنت کی اور ملک کا اربوں روپیہ بچایا۔ مجھےکسی کتے نے کاٹا تھا جو میں بچت کرتارہاہوں۔۔چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ کہ آپ کو کس نے کاٹا ہے۔تو شہباز شریف نے کہا کہ معافی چاہتاہوں سخت الفاظ واپس لیتاہوں۔۔۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میرے خلاف کرپشن کا ایک دھیلہ بھی نکل آئےتوسزاکیلیےتیارہوں۔