ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے شوہر کے ہمراہ گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس میں شمولیت کرلی

خدا کرے الیکشن وقت پر ہوجائیں تو ملک کے لیے اچھی بات ہے، پیر پگاڑا کا پریس کانفرنس سے خطاب

اتوار جون 23:30

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) سابق اسپیکرقومی اسمبلی اورپیپلزپارٹی کی رہنما ڈاکٹرفہمیدہ مرزا نے اپنے شوہرسابق وزیرداخلہ سندھ ڈاکٹرذوالفقارمرزا کے ساتھ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس میں شمولیت کا اعلان کردیا ہے۔ جی ڈی اے سربراہ پیرپگارا نے کہاہے خدا کرے الیکشن وقت پر ہوجائیں تو ملک کے لیے اچھی بات ہے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے سابق وزیرداخلہ ڈاکٹرذوالفقارمرزا کی رہائشگاہ پرڈاکٹرفہمیدہ مرزا کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

اس موقع پرفنکشنل لیگ سندھ کے صدرپیرصدرالدین شاہ راشدی ،ڈاکٹرذوالفقارمرزا دیگررہنما بھی موجود تھے۔ قبل ازیں گرینڈڈیموکریٹک الائنس اورمسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیرپگاڑا نے ڈاکٹرذوالفقارمرزا کی رہائشگاہ پران سے ملاقات کی اورسندھ کی سیاسی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا۔

(جاری ہے)

بعد ازاں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جی ڈی اے کے سربراہ پیرپگارا نے کہاکہ کرپٹ کلچرسے نجات اورسندھ میں تبدیلی کے لیے جی ڈی اے کے ذریعے ہم نے لوگوں کو پلیٹ فارم مہیا کردیا ہے۔

پیر پگارانے کہاکہ سندھ کے بعد پنجاب میں بھی کام کریں گے،،سندھ میں تعلیم،،صحت اورامن وامان سے متعلق مسائل ہیں،ہماری تمام کوششیں نیک نیتی پرمبنی ہیں،اسی بناء پر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اور ذوالفقار مرزا نے جی ڈی اے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے جب تک حکومت تھی تو انہوں نے اپنی پارٹی نہیں چھوڑی ،ہم فہمیدہ مرزا کو خوش آمدید کہتے ہیں ہماری بہن فہمیدہ مرزا جی ڈی اے میں شامل ہوکر مدد کرینگی ،ہم جی ڈی اے کو ملکی سطح پر منظم کریں گے۔

انہوں نے کہاہم بھی چاہتے ہیں سندھ کے بچے اچھی تعلیم حاصل کریں ،،سندھ میں پینے کا صاف پانی نہیں ہے ،،پیرپگارا نے کہاکہ حکومت جب تک تھی سوچ بچار کرتے رہے،،فہمیدہ مرزا کے جوتحفظات تھے وہی ہمارے ہیں،ہم بھی سندھ میں اعلی تعلیم امن وامان کی بحالی چاہتے ہیں،صاف پانی کے لیئے ہمارے مطالبات ایک ہیں،،سندھ میں اتحاد کے بعد ملک بھر میں سیاسی رابطے بڑھائیں گے، ہم نے سندھ کے عوام کوایک پلیٹ فارم دیدیا ہے۔

پہلے پیپلزپارٹی اور نون لیگ کے ساتھ نہ چلنے والوں کے لیے کوئی پلیٹ فارم نہیں تھا۔ ڈاکٹرفہمیدہ مرزا نے کہاکہ پیر صاحب پگارا نے ہمارے گھر آکر ہمیں عزت دی ہے۔ ہم سندھ کے مسائل پرمشترکہ جدوجہد کے لیے ان کے ساتھ کھڑے ہونگے ۔ انہوں نے کہاکہ پانچ سال تک پارلیمنٹ میں آواز اٹھاتی رہی ، میں پانچ سال مکمل ہونے پر عوام کے پاس گئی تھی اورعوام کی رائے لی تھی کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہیئے۔

انہوں نے کہاکہ بدین کا جلسہ عوامی ریفرنڈم تھا۔ دس برسوں میں سندھ کے حالات بدتر ہوگئے ہیں،،سندھ میں تعلیم ایمرجنسی عائد کی جانی چاہیے ،لوکل گورنمنٹ میں بہت کرپشن ہے اختیارات کے بغیر بلدیاتی نظام مسائل کا حل نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہاکہ کسانوں سے زبردستی گنا چھین کیاجاتاہے،باردانہ میں بھی بلیک میلنگ ہورہی ہے،کسانوں کو حقوق دینے کے بجائے انکے خلاف پولیس استعمال کی جاتی ہے۔