توقیرشاہ کوکام جاری رکھنےکی اجازت نہیں دےسکتے،چیف جسٹس

معطل نہ کریں عہدے سےاستعفیٰ دے دیتا ہوں،توقیرشاہ کی استدعا، توقیرشاہ کوماڈل ٹاؤن کیس سے بچنے کیلئے بیرون ملک بھیجا گیا، توقیرشاہ شہبازسریف کے منظورنظرتھے، جن میں تکبرتھا، انہیں لوگوں پرظلم کرتا دیکھا،آج وہ کٹہرے میں ہیں۔چیف جسٹس ثاقب نثار کےریمارکس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ منگل جون 19:43

توقیرشاہ کوکام جاری رکھنےکی اجازت نہیں دےسکتے،چیف جسٹس
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔05 جون 2018ء) : چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ توقیر شاہ کو کام جاری رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے، توقیر شاہ کو ماڈل ٹاؤن کیس سے بچنے کیلئے بیرون ملک بھیجا گیا، توقیرشاہ شہبازسریف کےمنظورنظرتھے، توقیر شاہ نےاستدعا کی کہ معطل نہ کریں عہدے سے استعفیٰ دے دیتا ہوں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں آج توقیر شاہ تقرری ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔

اس موقع پرچیف جسٹس نے توقیر شاہ کوبیرون ملک جانے سے روک دیا اور حکم دیا کہ توقیر شاہ بیرون ملک جانے سے متعلق تحریری درخواست دیں۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ توقیر شاہ کس ملک کے سفیر ہیں؟ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ توقیر شاہ ڈبلیو ٹی او میں پاکستان کے سفیر ہیں۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے کہا کہ تقرریاں میرٹ پر ہونی چاہییں۔ توقیر شاہ شہباز سریف کے منظور نظرتھے۔

جب ماڈل ٹاؤن کا کیس بنا تو توقیرشاہ کو باہر بھیج دیا۔ جس پراٹارنی جنرل نے بتایا کہ توقیر شاہ پاکستان کے سفارت کار ہیں۔توقیر شاہ کی تقرری پاکستان کے مفاد میں تھی۔۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کس پاکستان کے مفاد کی بات کر رہے ہو؟ کیا پاکستان کا مفاد ہمیں عزیز نہیں؟توقیر شاہ کی تقرری اقرباء پروری پر کی گئی کیوں نہ اسے معطل کر دیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر توقیر شاہ کو ہٹایا گیا تو پاکستان کی بدنامی ہوگی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ڈبلیو ٹی او کے نمائندے سفیر کیسے بن گئے؟ کیا پاکستان میں یہی لوگ ہیں جو بیرون ملک نمایندگی کر سکتے ہیں؟ پاکستان کو کیا توقیر شاہ کے علاوہ اور کوئی نہیں ملا؟ پاکستان کی بدنامی نہیں بلکہ نیک نامی ہو رہی ہے۔ دنیا کو اب پتا چل رہا ہے کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی ہو رہی ہے۔ چیف منسٹرکوخوش کر کے سیاسی تقرریاں کی جاتی ہیں۔

کیا یہی لوگ رہ گئے ہیں پاکستان کی نمائندگی کے لیے؟ اس موقع پرتوقیر شاہ نے عدالت سے استدعا کی کہ مجھے معطل نہ کریں میں رضاکارانہ طور پر عہدے سے استعفیٰ دے دیتا ہوں۔ چیف جسٹس نے توقیرشاہ سے مکالمہ کیا کہ ٹھیک ہے آپ ہمیں لکھ کر دے دیں۔۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ماڈل ٹاؤن واقعےکی بھی انکوائری کرائینگے۔ جس کیلئے آپکی تعیناتی ہوئی۔ ہمیں پتا ہے پنجاب میں جو کچھ آپ کرتے رہے ہیں۔

جن میں تکبر،غرورتھا،انہیں لوگوں پر ظلم کرتا دیکھا،آج وہ کٹہرے میں ہیں۔اسی طرح آج سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قومی طیاروں کی دم پرقومی پرچم ہٹانے کی تصویر پرکیس کی سماعت ہوئی۔ اس موقع پرچیف جسٹس سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ جہازوں سے قومی پرچم اتارنے سے روکنے کا حکم برقرارہے۔تاہم ایم ڈی پی آئی اے کے بغیراجازت بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کردی ہے۔

ایم ڈی پی آئی اے بغیراجازت بیرون ملک نہیں جاسکتے۔بیرون ملک جانے کیلئے اجازت لینا ہوگی۔۔چیف جسٹس نے مزید استفسار کیا کہ کیا ملازمین کو تنخواہیں ادا کردی ہیں؟ جس پرایم ڈی نے بتایا کہ تمام ملازمین کو تنخواہیں ادا کردی ہیں۔بعدازاں ایم ڈی پی آئی اے نے بتایا کہ عدالت نے غلط فہمی میں مجھے روکا ہے۔مزید برآں چیف جسٹس ثاقب نثار نے آج پمز اسلام آباد کا دورہ کیا ۔

اس موقع پرچیف جسٹس نے اسپتال میں مختلف شعبوں کا جائزہ بھی لیا۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ سے میڈیا سے گفتگو میں ایک سوال ’’ پمز کی بہتر صورتحال کا کریڈٹ کس کودیتے ہیں؟‘‘ کے جواب میں چیف جسٹس نے کہا کہ پمزکی اچھی کنڈیشن کا کریڈٹ مولاکریم کی ذات کوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں عدالت میں کمنٹ کرتا ہوں،،چیف جسٹس نے کہا کہ میں سیاسی آدمی تھوڑی ہوں،میں نے کبھی کمنٹ نہیں کیا۔

انہوں نے ایک مزید سوال ’’پمزکی اچھی حالت کےحوالےسے سابق وفاقی حکومت کےبارے میں کیا کہیں گے‘‘ پر کہا کہ پمزکے ماحول سے مطمئن ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پمزکے شعبوں میں بہتری آئی ہے۔ ماہ بعد دوبارہ پمز کا دورہ کروں گا۔ دریں اثناں چیف جسٹس سپریم کورٹ نے اسلام آباد میں فارم ہاؤسز کیخلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ فارم ہاؤسز کے نام پر بنگلے بنا لیے گئے۔ سبزیاں اگانے کی جگہ پر محل بنا لیے گئے ہیں۔ کیوں نہ ان سب بڑے لوگوں کے محل گرا دیے جائیں۔