ٹکٹ چاہئے تو پہلے یہ کام کرنا ہوگا۔۔۔

ن لیگ نے چوہدری نثار کے آگے بڑی شرط رکھ دی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعرات جون 11:36

ٹکٹ چاہئے تو پہلے یہ کام کرنا ہوگا۔۔۔
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 07 جون 2018ء) : مسلم لیگ ن کے رہنما چودھری نثار علی خان کے سیاسی مستقبل اور ان کو ٹکٹ دینے کے معاملے پر مسلم لیگ ن تاحال کوئی فیصلہ نہیں کر سکی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق چودھری نثارعلی خان کو پارٹی ٹکٹ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ آج ہو گا۔ چودھری نثار علی خان کو آج پارلیمانی بورڈ کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

چودھری نثار علی خان کو ٹکٹ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ نوازشریف کریں گے ۔ نواز شریف آج ماڈل ٹاؤن لاہور میں چودھری نثار علی خان کو ٹکٹ دینے کا نہ دینے سے متعلق حتمی فیصلہ کریں گے۔ واضح رہے کہ کچھ دن قبل یہ خبر سامنے آئی تھی کہ مسلم لیگ ن نے پارٹی کے سینئیر رہنما چودھری نثار علی خان کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اور چودھری نثار علی خان کو مسلم لیگ ن کی جانب سے دو ٹکٹ دئے جائیں گے جس کے تحت چودھری نثار علی خان قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر الیکشن لڑیں گے۔

(جاری ہے)

تاہم تازہ ترین اطلاعات کے مطابق چودھری نثار علی خان کو پارٹی ٹکٹ دینے یا نہ دینے سے متعلق حتمی فیصلہ آج نواز شریف کریں گے۔ خیال رہے کہ پانامہ کیس میں نواز شریف کی نا اہلی کے بعد سے مسلم لیگ ن کی سیاست کا سیاہ باب شروع ہوا۔ مسلم لیگ ن کی سیاسی ساکھ تب خطرے میں پڑی جب پارٹی کے قائد نواز شریف نے عدلیہ، نیب اور پاک فوج سمیت ملکی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا، نواز شریف کے جارحانہ بیانیے کی مخالفت میں کئی لوگوں نے سوال اُٹھائے، کچھ نے اعتراض کیا اور کچھ نے پارٹی بیانیے اور پارٹی کی تبدیل ہوئی پالیسی کو مسترد کر کے دیگر سیاسی جماعتوں میں شمولیت اختیار کر لی۔

ایسے میں پارٹی کے سینئیر ترین رہنماؤں نے بھی نواز شریف سے سالوں کی رفاقت کی پرواہ نہ کی اور مسلم لیگ ن کی سیاسی حریف جماعتوں میں شامل ہو گئے۔ اس ساری صورتحال میں چودھری نثار پہلے تو خاموش رہے لیکن پھر انہوں نے بھی میڈیا کانفرنس ، نیوز کانفرنس اور صحافیوں سے گفتگو میں پارٹی پالیسیوں کی دبے الفاظ میں مخالفت کی۔ معاملہ تب بڑھا جب نواز شریف اور چودھری نثار علی خان میں دوریاں بڑھیں اور ان دوریوں کا ذمہ دار مریم نواز کی پارٹی پالیسی اور نئی حکمت عملی کو ٹھہرایا گیا۔

مریم نواز اور چودھری نثار کے مابین ایک مخفی لفاظی جنگ چھڑی جس کے بعد چودھری نثار علی خان نے خود کو پارٹی معاملات سے علیحدہ کر دیا ۔ صحافیوں سے گفتگو کے دوران چودھری نثار علی خان نے برملا کہا کہ مریم نواز کا کوئی سیاسی تجربہ نہیں ہے ، لہٰذا وہ کسی کو سر یا میڈم کہہ کر نہیں پکاریں گے۔ چودھری نثار علی خان کے اس موقف کے ساتھ ان کو پارٹی کے کئی اجلاسوں میں بھی شرکت کی دعوت نہ دی گئی۔

بعد ازاں چودھری نثار علی خان اور نواز شریف کے کچھ قریبی ساتھیوں میں اختلافات کھُل کر سامنے آ گئے۔ میڈیا ذارئع کے مطابق شہباز شریف کو نواز شریف اور چودھری نثار علی خان کے مابین اختلافات کو دور کرنے کا ٹارگٹ دیا گیا تھا، لیکن بظاہر وہ بھی میاں صاحب اور چودھری نثار علی خان کے مابین تعلقات بحال کرنے میں ناکام رہے۔ پارٹی سے بڑھتی دوریوں پر خیال کیا جا رہا تھا کہ چودھری نثار علی خان پارٹی چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر لیں گے یا پھر وہ آزاد حیثیت میں الیکشن لڑیں گے ، ان سب قیاس آرائیوں پر رد عمل دیتے ہوئے اپنے ایک بیان میں چودھری نثار علی خان نے واضح کہا تھا کہ میں پارٹی تو نہیں چھوڑوں گا البتہ ٹکٹ کے لیے درخواست نہیں دوں گا۔

جس کے بعد یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ چودھری نثار نے چونکہ ٹکٹ کے لیے درخواست دینے سے منع کر دیا ہے لہٰذا اب ان کا پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے کا معاملی کھٹائی میں پڑ گیا ہے تاہم اب مسلم لیگ ن نے انہیں پارٹی ٹکٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مطلب ہے کہ مسلم لیگ ن کو اب بھی چودھری نثار علی خان کی ضرورت ہے۔ کیونکہ پارٹی پالیسی اور نواز شریف کے بیانات پر اختلاف رکھتے ہوئے کئی رہنما پارٹی کو چھوڑ چکے ہیں۔