تمام سیاسی جماعتیں اپنے اقتصادی ایجنڈہ میں کیمیکل انڈسٹری کی ترقی کو ترجیحی نکتے کے طور پر شامل کریں ، پی سی ایم اے

جمعہ جون 21:18

لاہور۔8جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون2018ء) پاکستان کیمیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن ( پی سی ایم ای) نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اقتصادی ایجنڈہ میں کیمیکل انڈسٹری کی ترقی کو ترجیحی نکتے کے طور پر شامل کریں کیونکہ یہ انڈسٹری ملک کے درآمدی بل میں فوری طور پر 14 ارب ڈالر کی کمی لاسکتی ہے۔ ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل اقبال قدوائی نے یہاں ایک بیان میں بتا یا ہے کہ اس وقت پاکستان ہر سال تقریباًً 14 ارب ڈالر کے کیمیکلز دوسرے ملکوں سے درآمد کر رہا ہے جس کی وجہ سے ہمارے درآمد ی بل کا تقریباًً 17فیصدی حصہ صرف کیمیکلز کی دراآمدات سے متعلق ہے، جس میں ہر سال 7فیصدکی شرح سے اضافہ ہو تا چلا جا رہاہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ مقامی کیمیکل انڈسٹری میں چند برسوں سے خاصی ترقی ہوئی ہے اور یہ سوڈا ایش، کاسٹک سوڈا، سلفیورک ایسڈاور کلورین جیسی متعدد غیر نامیاتی کیمیائی مصنوعات تیار کر رہی ہے۔

(جاری ہے)

مگر ہماری کیمیکل انڈسٹری ملک میں پیٹروکیمیکل کمپلیکس کی عدم موجودگی کی وجہ سے پیٹروکیمیکل کی ویلیو ایڈد منصوعات بنانے کی سکت سے محروم ہے۔ انہوں نے بتا یا کہ پیٹروکیمیکل کمپلیکس کی ٹیکنالوجی سے متعدد ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک ، خام کیمیائی مواد سے سینکڑوں ہائی ویلیو کیمیکلز تیار کر کے عالمی منڈیوں سے کثیر زر مبادلہ کما رہے ہیں۔

بھار ت میں پہلا پیٹروکمییکل کریکر کمپلیکس 1992 میں لگایاگیا تھا جبکہ اس وقت وہاں آٹھ پیٹروکمیکل کمپلیکس ہیں۔۔ایران میں ایسے 7، سنگاپور میں 5، ایران میں سات اور سعودی عرب میں 12 پیٹرو کیمیکل کمپلیکس قائم ہیں جبکہ پاکستان میں ابھی تک ایک بھی کیمیکل کمپلیکس قائم نہیں ہو سکا۔ انہوں نے بتا یا کہ دیگر ممالک میں مذکورہ کمپلیکس کی تعمیر و تنصیب کا عمل حکومتوں کی طرف سے شروع کیا گیا۔

مگر پاکستان میں حکومت کی طرف سے اس جانب کوئی عملی قدم نہیں اٹھا یا گیا۔ اقبال قدوائی نے کہا ہے کہ پی سی ایم اے اپنے قیام سے لیکر آج تک اہم سرکاری ، نجی اور عالمی فورموں پر پاکستان میں کروڈ نیفتھا پیٹرو کیمیکل کمپلیکس کی ضرورت کو اجاگر کر تی چلی رہی ہے جس کے نتیجے میں اب چین سمیت دیگر ر کئی سرمایہ کار کمپنیاں نے مذکورہ منصوبے میں اشتراک عمل کا عندیہ بھی دے دیا ہے اور پی سی ایم اے کے ممبرز بھی بیرونی سرمایہ کاروںکے ساتھ ملکر اس مقصد کیلئے مشترکہ سرمایہ کاری کی تیاری کر رہے ہیں اس صورتحال میںالیکشن کے نتیجے میں برسر اقتدار آنے والی کوئی بھی پارٹی محض متذکرہ منصوبے کی سرپرستی کر کے ملک کو درپیش کثیر تجارتی خسارے میں نہ صرف کمی لاسکتی ہے بلکہ کیمیکل کے شعبہ سے برآمدات میں بھی نمایا ں اضافہ کرسکتی ہے۔