مریدکے، تحریک انصاف کی قومی اسمبلی کی ایک اور صوبائی اسمبلی کی دو نشستوں کے لیے اپنے امیدواروں کی نامزدگی ،سیاسی ماحول میں گرمی پیدا ہو گئی

ہفتہ جون 20:37

مریدکی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 جون2018ء) پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے تحصیل مریدکے میں قومی اسمبلی کی ایک اور صوبائی اسمبلی کی دو نشستوں کے لیے اپنے امیدواروں کی نامزدگی کے بعد سیاسی ماحول میں گرمی پیدا ہو گئی۔ مسلم لیگ(ن) کی طرف سے قومی اسمبلی کے حلقہ119میں سابق وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کے بڑے بھائی سابق ایم این اے رانا افضال حسین کو ہی امیدوار برقرار رکھا گیا ہے جبکہ صوبائی حلقہ 136میں سابق ایم پی اے خرم اعجاز چٹھہ کو سرخ جھنڈی دیکھانے کے بعدسابق ایم پی اے حاجی مشتاق احمد گجر کو امیدوار کے طور پر میدان میں اتارا ہے۔

صوبائی حلقہ 135نارنگ منڈی سے سابق ایم پی اے چودھری حسان ریاض کو ہی برقرار رکھا گیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے سابق ضلعی صدر عمر آفتا ب ڈھلوں کو صوبائی حلقہ 135کا ٹکٹ دے کر امیدوار قومی اسمبلی بریگیڈیر(ر) راحت امان اللہ میں کی قیادت میں دے دیا گیا ہے جبکہ صوبائی حلقہ 136مریدکے میں مسلم لیگ ن کے سابق ایم پی اے خرم اعجاز چٹھہ کو پارٹی میں شامل ہوئے بغیر ٹکٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی سابق امیدوار عثمان نثار پنوں ایڈووکیٹ کو قومی اسمبلی کے امیدوار کے طور پر ٹکٹ جاری کرنے کا عندیہ دیا ہے جبکہ ان کے ساتھ صوبائی حلقوں میں بھی جٹ اور راجپوت برادری کے امیدواروں کی نامزدگی متوقع ہے۔ جماعت اسلامی نے صوبائی حلقہ136میں رانا ظہیر شہزاد کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے جبکہ تحریک لبیک کی طر ف سے نارنگ منڈی میں پیر عمر افضل فقیر اور مریدکے میں انور رشید گجر کو امیدوار متعارف کرایا گیا ہے اور قومی اسمبلی کے امیدوار کی تلاش جاری ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی طر ف سے مسترد کئے جانے والے سابق امیدوار عامر گجر، میاں خالد جاوید، چودھری ارشد ورک، رانا اعجاز حسین ، چودھری سجاد حسین چھینہ، حاجی محمد سعید بٹ اور چودھری خالد منظور گجر میں سے بھی صوبائی سطح پر آزاد امیدوار سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ اب تک سامنے آنے والے تمام امیدواروں کا تعلق جٹ ، راجپوت اور گجر برادری سے ہے۔