سینیٹر فدا محمد کی زیر صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس،کمیٹی کی عید کے دنوں میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کی ہدایت

ملک میں بجلی کی طلب23301 اور سپلائی 18742میگا واٹ ،شارٹ فال 4560 میگا واٹ ہے ، پیسکو سسٹم کو بہتر بنانے کیلئے 9ارب ، سیپکو کو 3.5 ارب اورکیسکوکیلئے 1.2 ارب روپے چاہئیں ، کمیٹی کو بریفنگ

پیر جون 18:43

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جون2018ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کو بتایا گیا ہے کہ ملک میں بجلی کی طلب23301 اور سپلائی 18742میگا واٹ ہے جبکہ شارٹ فال 4560 میگا واٹ ہے ، پیسکو سسٹم کو بہتر بنانے کیلئے 9ارب ، سیپکو کو 3.5 ارب اورکیسکوکیلئے 1.2 ارب روپے چاہئیں جبکہ کمیٹی نے ہدایت کی ہے کہ عید کے دنوں میں لوڈشیڈنگ ہرگز نہ کی جائے اور نامکمل فیڈر ز پر کام کی رفتار تیز کر کے بروقت مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو اس حوالے سے درپیش مسائل جلد سے جلد حل ہو سکیں۔

پیر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس چیئرمین قائمہ کمیٹی سینیٹر فدا محمد کے زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔ کمیٹی کے اجلاس میں 15 مئی 2018ء کو سینیٹ اجلاس میں سینیٹر امام الدین شوقین کی عوامی اہمیت کے نقطہ جس میں سانگھڑ ((سندھ)) کے صنعتی علاقوں میں لوڈشیڈنگ کے معاملے کے حوالے سے متعلقہ سینیٹر کی عدم موجودگی کی وجہ سے موخر کر دیاگیا۔

(جاری ہے)

ملک میں بجلی کی طلب ، سپلائی اور شارٹ فال، فیڈرز کی تعداد ، اقسام اور ان ، فیڈرز سے ہونے والی بجلی کے ضیاع اور ان کی روک تھام کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات پرسیکرٹری پاور ڈویژن اور جنرل منیجرپیپکونے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ملک میں بجلی کی طلب 23301میگاواٹ اور سپلائی18742ہے جبکہ شارٹ فال 4560 میگا واٹ ہے جو گزشتہ ماہ 3530 میگاواٹ تھا جس کی بنیادی وجہ موسم کی شدت میں اضافہ ہے۔

روکن کمیٹی سینیٹر موالا بخش چانڈیو نے کمیٹی کو کہاکہ لاکھڑا پاور ہائوس کے بارے میں مکمل تفصیل کمیٹی کے سامنے پیش کی جائے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پیسکو سسٹم کو بہتر بنانے کیلئے 9ارب ، سیپکو کو 3.5 ارب اورکیسکوکیلئے 1.2 ارب روپے چاہئیں۔انہوں نے کہا 8600فیڈر پرAMR میٹر نصب کئے گئے ہیں جن سے بجلی چوری کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ فیڈرز اور ان اقسام کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا ملک میں کل8633 فیڈرز ہیں جن کو7اقسام میں تقسیم کیا گیاہے۔

کیٹیگری 1 جس پر 10% سے کم نقصان ہے وہ 5272 فیڈرز ہیں جبکہ80% اور اس سے زائد کے نقصان والے 844 فیڈرز ہیں ۔ بجلی کی تقسیم کا لائنوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات بارے کمیٹی کو بتایا گیا۔ سی ای او پیسکو نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ 80% گھریلو صارفین 14% کمرشل اور 5% دیگر صارفین پیسکو سے مستفید ہوتے ہیں جبکہ 992 فیڈر ہیں 21 فیڈر پر ٹیکنیکل نقصانات ہیں سی ای او سیپکو نے کہا کہ کل 487 فیڈر ہیں 1.6 صنعتی لوڈ ہے اور بجلی چوری کے خلاف 11000ایف آئی آر کے لیے درخواستیں ہیں اور 104 ایف آئی آر رجسٹر کروائی گئی ہیں ۔

قائمہ کمیٹی نے سینیٹر نعمان وزیر خٹک کی سربراہی میں ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی جو ملک میں ہونے والے بجلی کے ضیاع پر ایک رپورٹ مرتب کرے گی۔ ڈیسکوز کی بلینگ ریکوری کے حوالے سے بتایا گیا کہ2017-18 میں 90.77%ریکوری کی گئی ہے۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں عوامی عرضداشت کافی تفصیل سے جائزہ لیا گیا قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نتوڈیرو کے گائوں میں بجلی کی تقسیم کی لائنو ں کی منتقلی پر کل خرچ2.5 ملین جبکہ گائوں میں کل صارفین کی تعداد 60 ہے جس میں صرف 2 صارفین بل ادا کرتے ہیں۔

سینیٹر اورنگ زیب خان نے کہا کہ ملک میں جب تک بجلی کی چوری کو کنٹرول نہیں کیا جائے گا معاملات میں بہتری نہیں آئے گی تمام ڈیسکوز کو بجلی چوری کی روک تھام کے لیے پولیس کی نفری دینی چائیے۔ قائمہ کمیٹی کو چکدارہ گرڈ سیٹشن اور مردان چکدارہ ٹرانسمیشن لائن بارے تفصیلی آگاہ کیا گیا چکدارہ گرڈ سیٹشن قائم ہو چکا ہے صرف چیک کرنا باقی ہے اور جولائی 2018 ء سے بجلی کی سپلائی شروع ہو جائے گی۔

بٹ خیلہ 132 kv گرڈ سیٹشن سے طوطا کان اور درگئی کے عوام بھی مستفید ہوں گے اور قائمہ کمیٹی کو بٹ خیلہ گرڈ سٹیشن، فیڈرز ،ناگومان فیڈر، داود ذئی فیڈر، پچگڑ فیڈراور مٹہ فیڈر بارے تفصیلی آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا 65% کام مکمل ہو چکا ہے اور گرڈ سیٹشن سے اگست میں سپلائی شروع ہو جائے گی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر فدا محمد نے سی ای او ز ٹیسکو اور کیسکوکے عدم شرکت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کر دی اور عید کے فورا بعد متعلقہ گرڈ سٹیشن کامعائنہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے یہ بھی ہدایت کی کہ ملک میں عید کے دنوں میں لوڈشیڈنگ ہرگز نہ کی جائے اور نامکمل فیڈر ز پر کام کی رفتار تیز کر کے بروقت مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو اس حوالے سے درپیش مسائل جلد سے جلد حل ہو سکے۔

قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس سینیٹرز نعمان وزیر خٹک ، محمد علی خان سیف ،مولا بخش چانڈیو ، اورنگ زیب خان ، مولوی فیض محمد اور سعدیہ عباسی کے علاوہ نگران وزیر توانائی ، سیکرٹری و ایڈیشنل سیکرٹری پاور ڈویژن اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔