معروف صحافی زلفی بخاری کے معاملے میں عمران خان اور نگران حکومت پر برس پڑے

نگران حکومت کے لیے انتہائی شرم کی بات ہے کہ زلفی بخاری کا نام عمران خان کے دباؤ کی وجہ سے ای سی ایل سے نکال دیا،معروف صحافی روف کلاسرا کا تجزیہ

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان منگل جون 11:16

معروف صحافی زلفی بخاری کے معاملے میں عمران خان اور نگران حکومت  پر برس ..
اسلام آباد (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔12جون 2018ء) گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب روانہ ہو رہے تھے،،عمان خان کے قریبی دوست زلفی بخاری بھی ان کے ہمراہ تھے۔زلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں ہونے کی وجہ سے انہیں روک لیا گیا تھا۔لیکن تین گھنٹے کے بعد عمران خان کے طیارے کو جانے کی اجازت دے دی گئی۔

اسی متعلق گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ یہ نگران حکومت کے لیے انتہائی شرم کی بات ہے کہ جس نے زلفی بخاری کا نام ای سی ایل میں ہونے کے باوجود ان کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دینے کے آرڈر دئیے۔رؤف کلاسرا کا مزید کہنا تھا کہ یہ وزیر اعظم ہاؤس کے لیے بھی شرم کی بات ہے کہ ایک سپریم کورٹ کے جج نے عمران خان کے دباؤ میں آ کر ان کے قریبی دوست زلفی بخاری کے ساتھ نرم رویہ اپنایا  ۔

(جاری ہے)

حالانکہ عمران خان کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں ہے۔نہ ہی عمران خان کے پاس کوئی ایگزیکٹو پاورز ہیں۔لیکن زلفی بخاری پر کرپشن جیسے الزامات ہیں۔جس کو نیب دیکھ رہی ہے جب کہ زلفی بخاری کا نام بھی ای سی ایل میں ڈالا گیا تھا۔لیکن عمران خان کے دباؤ میں آ کر زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکال دیا گیا۔۔عمران خان زلفی بخاری کے لیے تین گھنٹے بیٹھے رہے لیکن اس کے باوجود بھی اگر ہماری قوم اور ہماری قوم کے نوجوان عمران خان کی پالیسیوں کا دفاع کر سکتے ہیں تو کہ وہ اس ملک کو بدل دے گا۔

تو یہ قابل افسوس ہے۔یاد رہے کہ زلفی بخاری عمران خان کے قریبی ساتھی ہیں۔اور ان کا نام پانامہ پیرز کے بعد زیادہ منظر عام پر آنے لگ گیا۔جب کہ عمران خان کی ریحام خان سے شادی اور طلاق میں بھی زلفی بخاری نے اہم کردار ادا کیا تھا۔