پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 4.26 روپے اضافے ،ْ روپے کی قدر میں کمی اور اوپن مارکیٹ میں 122 روپے ڈالر کی فروخت کو ملکی معیشت کے لئے تباہ کن ہے ، سرحد چیمبر آف کامرس

بدھ جون 20:53

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 4.26 روپے اضافے ،ْ روپے کی قدر میں کمی اور ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جون2018ء) سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر زاہداللہ شنواری نے نگران حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 4.26 روپے اضافے ،ْ روپے کی قدر میں کمی اور اوپن مارکیٹ میں 122 روپے ڈالر کی فروخت کو ملکی معیشت کے لئے تباہ کن اور عوام پر مہنگائی بم گرانے کے مترادف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ڈالر اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان میں مہنگائی کا ایک ایسا طوفا ن برپا ہوگاجس میں عوام خس و خشاک کی طرح اڑ جائیں گے۔

ایک بیان میں سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر زاہداللہ شنواری نے کہا کہ راتوں رات ڈالر مہنگا ہونے سے بیرونی قرضوں میں 350 ارب روپے کا بوجھ عوام پر لادا جا رہا ہے جبکہ پاکستان میں آنیوالی 70فیصد اشیاء ضرورت جو امپورٹ کی جاتی ہے اُن کی قیمتوں میں اس قدر اضافہ ہوجائے گا کہ عام آدمی سڑک پر آجائے گا ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ کم از کم نگران حکومت سے یہ توقع نہ تھی کہ وہ یوں پٹرولیم مصنوعات اور ڈالر کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کرے گی ۔

انہوں نے کہاکہ موجودہ صورتحال پاکستان کے لئے بڑی الارمنگ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ڈالر مہنگا ہونے کی وجہ بیرونی ادائیگیاں اور کم ہوتے ذرمبادلہ کے ذخائر ہیں جبکہ ماہانہ ایک ارب ڈالر کی ادائیگیاں زرمبادلہ کے ذخائر کو کم کر رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آئی ایم ایف ،ْ ورلڈ بینک اور دیگر مالیاتی اداروں سے کئے گئے وعدوں کے مطابق پاکستانی کرنسی کی قدر میں بتدریج کمی کر رہا ہے ۔

انہوں نے کہاکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے روزمرہ زندگی سے تعلق رکھنے والی تمام اشیاء مہنگی ہوجاتی ہیں جس کا براہ راست اثر ملکی معیشت اور عوام پر پڑتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان بنیادی طور پر درآمدی ملک ہے جو ذرعی مصنوعات بھی باہر سے امپورٹ کرتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافہ سے صنعتی ،ْ تجارتی اور ایکسپورٹ کا شعبہ بری طرح متاثر ہوگا اور ڈالر کی قدر میں اضافہ سے پاکستان مسائل کی دلدل میں دھکیل دیا جائے گا ۔

سرحد چیمبر کے صدر زاہداللہ شنواری نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر فوری طور پر پٹرولیم مصنوعات او رڈالر کی قیمت میں کمی نہ کی گیء تو آئندہ دنوں میں ملک میں مہنگائی کا نہ ختم ہونیوالا سلسلہ شروع ہوگا جس سے مہنگائی میں پھنسی ہوئی بزنس کمیونٹی اور عوام جس کی کمر پہلے ہی ٹوٹ چکی ہے اب وہ بستر مرگ پر آخری سانسیں لینے پر مجبور ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وینٹی لیٹر پر پڑی معیشت کو آکسیجن فراہم کرنے کے لئے اقدامات کی فوری ضرورت ہے ۔

انہوں نے نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک اور نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر سے مطالبہ کیا کہ پاکستان کو معاشی اعتبار سے تباہی کے دہانے لانے والے اقدامات سے گریز کیا جائے اور فوری طور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لیا جائے اور ڈالر کی قدر میں کمی کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں۔