برساتی نالوں کی صفائی اور سول ورکس کے لئے کے ایم سی میں ایمرجنسی نافذ

واٹر بورڈ، یوٹیلیٹی اداروں، ڈی ایم سیز ، کنٹونمنٹس اور ڈی ایچ اے سمیت تمام متعلقہ اداروں کو آن بورڈ لے لیا ہے،میئر کراچی

بدھ جون 20:29

برساتی نالوں کی صفائی اور سول ورکس کے لئے کے ایم سی میں ایمرجنسی نافذ
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جون2018ء) میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ برساتی نالوں کی صفائی اور سول ورکس کے لئے کے ایم سی میں ایمرجنسی نافذ کردی،واٹر بورڈ، یوٹیلیٹی اداروں، ڈی ایم سیز ، کنٹونمنٹس اور ڈی ایچ اے سمیت تمام متعلقہ اداروں کو آن بورڈ لے لیا ہے، تمام تیاریاں مکمل ہیں، عید کے بعد اس پروجیکٹ پر بھرپور کام شروع کردیں گے، نالوں کی صفائی کے لئے اوپن ٹینڈر کیا ہے، ہم چاہتے ہیں اس مقصد کے تحت ملنے والے 50 کروڑ روپے کو صحیح طریقے سے استعمال کریں ، نالوں کی صفائی کے ساتھ ساتھ ان پر موجود تجاوزات کو بھی مسمار کریں گے ، ہر ضلع میں مانیٹرنگ کے لئے افسران تعینات کئے ہیں، پوری کوشش ہے کہ اس بار صحیح طریقے سے نالوں کی صفائی اور مرمت کا کام کردیں تاکہ ہر سال یہ مشق نہ دہرانی پڑے،،کراچی کا 60 فیصد سے زائد کچرا نالوں میں جاتا ہے جس کی وجہ سے شہر میں بیماریاں بڑھ رہی ہیں،جب تک تمام اختیارات ایک چھتری تلے نہیں آئیں گے نظام ٹھیک نہیں ہوسکتا،یہ بات انہوں نے برساتی نالوں کی صفائی اور نکاسی آب کے عمل کو موثر بنانے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر سٹی کونسل میں پارلیمانی لیڈر اسلم شاہ آفریدی، چیئرمین اراضیات کمیٹی سید ارشد حسن، چیئرمین ورکس کمیٹی حسن نقوی، سینئر ڈائریکٹر کوآرڈینیشن مسعود عالم ،سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز نعمان ارشد اور دیگر افسران بھی موجود تھے، میئر کراچی نے کہا کہ ہماری ایک ماہ سے بھی زائد عرصے سے کوشش تھی کہ مون سون کی آمد سے قبل نالوں کی صفائی کے لئے کام کیا جائے، اس حوالے سے وزیراعلیٰ کو بھی سمری بھیجی تھی کہ نالے دوبارہ چوک ہوگئے ہیں جبکہ واٹر کمیشن اور سپریم کورٹ کی طرف سے بھی ہدایت ملی ہے کہ کے ایم سی30 یوم کے اندر اپنے 38 نالوں کو صاف کرے لہٰذا ہم نے اس حکم نامے کے تحت کے ایم سی میں ایمرجنسی لگا دی ہے اور انجینئرنگ ، فائربریگیڈ ، میڈیکل اینڈ ہیلتھ اور سٹی وارڈن ڈپارٹمنٹ کو آن بورڈ لے لیا ہے، چیف انجینئرز کی ذمہ داری لگائی گئی ہے کہ وہ ہر ضلع میں ہونے والے کاموں کی خود نگرانی کریں گے جبکہ متعلقہ ضلعی بلدیاتی انتظامیہ اپنی حدود میں واقع نالوں کی صفائی کی ذمہ دار ہوگی، میونسپل سروسز ڈپارٹمنٹ کے ایم سی کے دفتر میں مرکزی پوائنٹ بنایا گیا ہے جو 24گھنٹے کام کرے گا اور 1339 پر نالوں کے حوالے سے موصولہ شکایات پر بھی کارروائی کرے گا، ہفتہ وار پروگریس رپورٹ میڈیا کے سامنے رکھیں گے، کاموں سے پہلے اور بعد کی تصاویر بھی عوام کے سامنے لائی جائیں گی ، انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی یہ کام ہوتے رہے ہیں مگر جس طرح نالوں کی صفائی ہونی چاہئے تھی ویسی نہیں ہوئی، اس کی وجہ یہ ہے کہ کچرا اور سیوریج کو ٹھکانے لگانے کا عمل ٹھیک نہیں کیا گیا، انہوں نے کہا کہ نالوں کی صفائی کے حوالے سے کام شروع کرنے پر ہماری درخواست پر عد الت نے تمام یوٹیلیٹی اداروں کو بلوایا تھا جن میں واٹر بورڈ بھی شامل تھا، جن کی سپلائی لائنز ان نالوں میں سے گزر رہی تھی، اس کے نتیجے میں یہ پائپ لائن اور کیبل کافی حد تک ہٹائے جاچکے ہیں، ہم نے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کو بھی پابند کرایا کہ وہ صفائی کے بعد نالوں سے نکالا گیا کچرا فوری ٹھکانے لگائیں، ہم نے اس سلسلے میں تمام ہوم ورک مکمل کرلیا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ مربوط اور موثر انداز میں اس کام کو آگے بڑھائیں، انہوں نے کہا کہ برساتی پانی کی نکاسی کے لئے بھی اقدامات کئے ہیں اور تمام انڈرپاسز میں نکاسی آب کے راستے کلیئر کردیئے ہیں اور ڈی واٹرنگ کے لئے مشینری بھی حاصل کرلی ہے، شارع فیصل ، جناح ٹرمینل سے فلک ناز اپارٹمنٹ ، ناتھا خان اور کے ڈی اے چورنگی سمیت تمام مقامات پر پمپس نصب کئے جائیں گے، نیشنل اسٹیڈیم کے سامنے برساتی پانی جمع ہونے کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے ہم نے وہاں پائپ لائن ڈال دی ہے جس سے یہ مسئلہ حل ہوجائے گا اور برسات کے دوران ٹریفک جام نہیں ہوگا، انہوں نے کہا کہ نالوں کی صفائی کے حوالے سے ڈی ایم سیز کے چیئرمین اور میونسپل کمشنرز کے ساتھ بھی میٹنگ کی گئی ہے کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ بڑے نالوں کے ساتھ ساتھ ڈی ایم سیز کی حدود میں واقع چھوٹے نالوں کی بھی صفائی کی جائے، انہوں نے کہا کہ ہم نے عدالت میں پلاسٹک بیگز پر پابندی کا مطالبہ بھی کیا ہے ، پوری دنیا میں کاغذ یا کپڑے کے بیگز استعمال ہو رہے ہیں ، پلاسٹک بیگز ہمارے ایکوسسٹم اور سمندری حیات کو تباہ کر رہے ہیں اور ان کی وجہ سے شہر میں صفائی ستھرائی اور نکاسی آب میں بھی رکاوٹ آرہی ہے ، عدالت نے اس سلسلے میں ہماری درخواست منظور کرتے ہوئے SEPA کے حکام کو طلب کرلیا ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے نالوں کی صفائی کے حوالے سے ٹیکنیکل ماہرین کی مدد بھی حاصل کی ہے، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کو یہ دیکھنا ہے کہ ان کا گاربیج نالوں میں تو نہیں پھینکا جا رہا اور واٹر بورڈ کو بھی اسے یقینی بنانا ہے کہ سیوریج لائنیں نالوں میں نہ ڈالی جائیں، انہوں نے کہا کہ نالوں کی صفائی کے لئے اوپن ٹینڈر کیا ہے جن میں نالوں کی صفائی (ڈی سلٹنگ) اور نالوں کی مرمت اور دیوار کی تعمیر سمیت سول ورکس شامل ہے، میئر کراچی نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان اور واٹر کمیشن کے سربراہ بھی اس معاملے میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں ، ہمیں کورٹ کے احکامات کے تحت نالوں کی صفائی اور ان میں موجود چوکنگ پوائنٹس ختم کرنے کے ساتھ ساتھ سول ورک بھی انجام دینا ہے ، انہوں نے کہا کہ نالوں کی صفائی اور سول ورک پر اٹھنے والی لاگت کا تخمینہ 1138 ملین روپے ہے جس میں 998 ملین ڈی سلٹنگ اور 140 ملین سول ورکس کے لئے ہیں اس میں سے 50 کروڑ روپے کی سمری منظور ہوئی تھی اور یہ رقم حکومت نے ہمیں دی ہے ہم چاہتے ہیں کہ اس رقم کو صحیح طریقے سے استعمال کریں جبکہ بقیہ تقریباً 73 کروڑ روپے کے لئے بھی حکومت کو سمری بھیجی ہے ، انہوں نے کہا کہ گجر نالہ اور محمود آباد نالے کی صفائی اور چینلائزیشن کے پروجیکٹ کے ایم سی کے حوالے کرنے کے لئے عدالت سے آرڈر جاری ہوگیا ہے اور بہت جلد اس کا نوٹیفیکیشن ہوجائے گا، واٹر کمیشن ساحلی علاقوں کے تحفظ کے لئے ٹریٹمنٹ پلانٹ پر کام کر رہا ہے اور اس سلسلے میں سخت ترین فیصلے کئے جا رہے ہیں، میئر کراچی نے کہا کہ جب تک تمام اختیارات ایک چھتری کے تلے نہیں آئیں گے ، نظام ٹھیک نہیں ہوسکتا، پولیس کا کنٹرول بھی کے ایم سی کے پاس ہونا چاہئے۔