چیئرمین پی سی بی کی کرسی کو خطرات لاحق ہونے لگے

انتخابات کے بعد نئی حکومت کے آنے پر نجم سیٹھی کو تبدیل کیا جا سکتا ہے

جمعرات جون 15:15

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جون2018ء) چیئرمین پی سی بی کا عہدہ خطرے میں پڑ جانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں کیونکہ عام انتخابات کے بعد نئی حکومت کے آنے پر نجم سیٹھی کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ الیکشن سے قبل نجم سیٹھی نے یہ بیان دے کر نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ نئی حکومت پی سی بی میں مداخلت نہیں کر سکے گی اور ناقدین کا یہ خیال ہے کہ چیئرمین پی سی بی نے آنے والے وقت کے خدشات کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ بیان دیا ہے۔

بورڈ کے دیگر عہدیداروں میں بھی بے چینی پائی جاتی ہے جن کے ذہنوں میں یہ بات موجود ہے کہ اگر گزشتہ حکومت دوبارہ برسر اقتدار نہ آئی تو نجم سیٹھی سمیت کئی افراد کو اپنے عہدوں سے محروم ہونا پڑے گا۔ کہا جا رہا ہے کہ نجم سیٹھی نے خود ہی ایسا بیان دے کر اس معاملے کو ہوا دی کہ بورڈ کیآئین میں ایسی کوئی گنجائش نہیں کہ حکومت کی جانب سے کوئی تبدیلی کی جا سکے اور نہ ہی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے ایسی کسی کوشش کی اجازت دی جائے گی۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں حکومتیں پی سی بی کے معاملات میں مداخلت کرتی تھیں لیکن بورڈ کے نئے آئین کے بعد ایسے خدشات باقی نہیں رہے ،ماہرین اور تجزیہ نگار متفق ہیں کہ اگر حکومتی اختیار کسی نئی جماعت کے ہاتھوں میں گیا تو نجم سیٹھی اینڈ کمپنی کیلئے مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں کیونکہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری سے قریبی تعلق رکھنے والے چوہدری ذکاء اشرف نجم سیٹھی کے حالیہ برسوں میں سب سے بڑے ناقد رہے ہیں۔