بلیک لسٹ میں نام شامل کرنے کا معاملہ، عمران خان کے قریبی ساتھی کا عدالت سے رجوع

زلفی بخاری کو 11 جون کو عمرہ روانگی پر ائیرپورٹ پر غیر قانونی طور پر روکا گیا ،ْ درخواست گزار وزارت داخلہ اور نیب حکام کو سفری پابندی ختم کرنے کا حکم جاری کیا جائے اور زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالا جائے ،ْدرخواست میں استدعا

جمعرات جون 17:18

بلیک لسٹ میں نام شامل کرنے کا معاملہ، عمران خان کے قریبی ساتھی کا عدالت ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جون2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی ذوالفقار حسین بخاری المعروف زلفی بخاری نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی درخواست پر وزارت داخلہ کی جانب سے ان کا نام بلیک لسٹ میں شامل کرنے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں وزارت داخلہ کی جانب سے سفری پابندیوں کے معاملے کے خلاف عمران خان کے قریبی ساتھی زلفی بخاری کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

زلفی بخاری کی جانب سے سکندر بشیر مہمند ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور موکل کی جانب سے درخواست دائر کی جس میں وزارت داخلہ اور نیب کو فریق بنایا گیا۔درخواست میں کہا گیا کہ زلفی بخاری کو 11 جون کو عمرہ روانگی پر ائیرپورٹ پر غیر قانونی طور پر روکا گیا بعد ازاں 6 دن کے لیے استثنیٰ دیتے ہوئے جانے کی اجازت دی گئی۔

(جاری ہے)

زلفی بخاری کے وکیل سکندر بشیر مہمند نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل پر عائد سفری پابندیاں بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہیں اور زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ میں غیر قانونی طور پر شامل کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سفری پابندیاں آئین کے آرٹیکل 9، 10 اے، 14 اور 18 کی خلاف ورزی ہے جبکہ عدالتی فیصلے کے مطابق نیب صرف جاری تحقیقات کی بنیاد پر سفری پابندی نہیں لگا سکتا۔درخواست میں کہا گیا کہ وزارت داخلہ اور نیب حکام کو سفری پابندی ختم کرنے کا حکم جاری کیا جائے اور زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ سے نکالا جائے۔عدالت عالیہ نے فریقین کو 21 جون کے لیے نوٹس جاری کر دیا ،ْ وزارت داخلہ کے سیکشن آفیسر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔واضح رہے کہ 11 جون 2018 کو مدینہ روانہ ہونے والی نجی پرواز میں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان ان کی اہلیہ بشریٰ، پی ٹی آئی کے رہنما علیم خان اور ان کی اہلیہ کے علاوہ زلفی بخاری بھی سفر کررہے تھے، جو عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جارہے تھے۔