لاہور ہائی کورٹ نے سیاسی شخصیات سے سرکاری اراضی واپس لینے کے لیے درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی

جمعرات جون 17:45

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جون2018ء) لاہور ہائی کورٹ نے سیاسی شخصیات سے سرکاری اراضی واپس لینے کے لیے درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی۔۔عدالت نے ہدایت کی ہے کہ ریکارڈ لگا کر دوبارہ درخواست دائر کریں۔ازاضی الاٹ منٹ کا ریکارڈ بھی پیش کریں ورنہ بے بنیاد درخواست دائر کرنے پر جرمانہ کیا جاہے گا ۔مسٹر جسٹس عابد عزیز شیخ نے مقامی وکیل رانا علم الدین غازی ایڈوکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔

درخواست میں صوبائی حکومت، بورڈ آف ریونیو سمیت دیگر شخصیات کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں ایک طرف کرپشن عام ہے۔دوسری طرف سرکاری اراضی پر سیاسی لوگون نے قبضے کر رکھے ہیں۔۔حکومت پنجاب ان شخصیات سے اراضی واگزار کروانے مین ناکام رہی۔

(جاری ہے)

ڈیرہ غازی خان مین مریم نواز اور کپتن صفدر نے پانچ ہزار سرکاری اراضی پر قبضہ کر رکھا ہے۔

سابق ڈپٹی اسپیکر علی شیر گورچانی نے چو دہ ہزار سرکاری اراضی پر قبضہ کر رکھا ہے۔عاطف مزاری نے 17ہزار نو سو ایکڑ اراضی پر قبضہ کر لیا۔حفیظ الرحمن دریشک نے چھ ہزار دو سو ایکڑ اراضی پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت اس سرکاری اراضی کو واگزار کروانے کا حکم دے۔اس اراضی کو واگزار کرنے کے بعد غریبوڈ میں تقسیم کرنے کا حکم دے۔