این اے 53 ۔۔

عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر اُٹھائے گئے اعتراضات پر فیصلہ محفوظ

Fahad Shabbir فہد شبیر منگل جون 10:34

این اے 53 ۔۔
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔19جون۔2018ء) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے این اے 53 سے جمع کرائے جانے والے کاغذات نامزدگی پر اٹھائے گئے اعتراضات پر ریٹرننگ افسر نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔جسٹس اینڈ ڈیمو کریٹک پارٹی کے امیدوار عبدالوہاب کی جانب سے عمران خان کے خلاف اعتراضات ریٹرننگ افسر کو جمع کرائے گئے جس پر دونوں فریقین کے وکلا کی جانب سے آج دلائل مکمل کرلیے گئے۔

فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد آر او نے اعتراضات پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو کچھ دیر بعد ہی سنائے جانے کا امکان ہے۔ عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے اپنے دلائل میں کہا کہ درخواست کنندہ نے اعتراضات میں اخباری تراشے اور فوٹو اسٹیٹ کاپیاں جمع کرائیں جس پر یقین نہیں رکھ سکتے اور فوٹو کاپیوں پر یقین کرنے کا مقصد امیدواروں کو انتخابات کے بنیادی حقوق سے محروم رکھنا ہے۔

(جاری ہے)

بابر اعوان نے دلائل میں کہا کہ درخواست کنندہ نے امریکی عدالت کے ایک فیصلے سامنے لائے، امریکی عدالت کے فیصلے میں بچی کے باپ کا نام کہاں لکھا گیا، باپ کا نام نہیں، یہ فوٹو کاپیاں ہیں۔عمران خان کے وکیل نے کہا کہ خالہ کو نہیں پتہ اس کا باپ کون ہے، حلف نامے میں نہیں پتہ کونسا عمران خان ہے اور حلف نامہ نومبر 18 سال 2004 کو لاہور میں تیار کیا گیا اور یہ کاغذ 19 نومبر کو اڑ کر امریکی عدالت میں پہنچ گیا، اس وقت پاکستان سے امریکا کے لیے براہ راست فلائٹ بھی نہیں جاتی تھی۔

اس موقع پر ریٹرننگ افسر نے کہا کہ کاغذات سے یکسر انکار بھی نہیں کیا گیا جس پر وکیل بابر اعوان نے کہا کہ کل ہم نے ان کاغذات کو مسترد کیا ہے جب کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو صادق اور امین قرار دیا ہے۔گزشتہ روز عمران خان کی جانب سے وکیل کے ذریعے جواب جمع کرایا گیا جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان کے خلاف اٹھائے جانے والے اعتراضات بے بنیاد اور فریب کاری پر مبنی ہیں۔

جسٹس اینڈ ڈیموکریٹنگ پارٹی کے امیدوار کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات پر عمران خان کی جگہ بابر اعوان کے معاون وکیل نے تحریری جواب ریٹرننگ آفیسر کو جمع کرایا جس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کے خلاف اعتراضات بے بنیاد اور فریب کاری پر مبنی ہیں۔تحریری جواب کے مطابق عمران خان پر لگائے گئے اعتراضات الزامات ہیں جو جھوٹ پر مبنی، من گھڑت اور غیر تصدیق شدہ ہیں۔تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ عمران خان پر لگائے گئے اعتراضات فوٹو اسٹیٹ کاغذات پر مشتمل اور غیر تصدیق شدہ ہیں جو جعل سازی کے زمرے میں آتے ہیں۔تحریری جواب کے مطابق بیرون ملک سے کاغذات منگوانے اور بھجوانے کا قانونی طریقہ کار موجود ہے اور عمران خان پر اعتراضات کے کاغذ پکوڑے لپیٹنے کے کام بھی نہیں آسکتے