تحریک انصاف اور عمران خان کا راستہ روکنے کے لیے نواز شریف کا نیا پلان

نواز شریف نے مفاہمت کے بادشاہ آصف علی زرداری سے ہاتھ ملا لیا، 60 حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا امکان

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین منگل جون 13:54

تحریک انصاف اور عمران خان کا راستہ روکنے کے لیے نواز شریف کا نیا پلان
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 19 جون 2018ء) : پاکستان تحریک انصاف کو عام انتخابات میں شکست دینے اور عمران خان کا راستہ روکنے کے لیے نواز شریف نےایک نیا منصوبہ تشکیل دیا ہے جس کے تحت پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری سے ہاتھ ملا لیا ہے۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق چودھری نثار علی خان کو پارٹی ٹکٹ جاری نہ ہونے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے ن لیگی قیادت کو مفاہمت کا گرین سگنل دے دیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ مسلم لیگ ن جو کہ گذشتہ کافی عرصہ سے پیپلز پارٹی سے سیاسی مفاہمت کی کوشش کر رہی تھی ، کو بالآخر پیغام بھجوادیا گیا ہے کہ آئندہ عام انتخابات کے بعد دونوں جماعتیں مشترکہ طور پر حکومت سازی کی طرف جا سکتی ہیں اور اگر پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا اتحاد بن جاتا ہے تو یہ بہت آسانی سے حکومت بنا سکتے ہیں اور تو اور دونوں جماعتوں کی سینیٹ میں 56 سیٹوں کے ساتھ واضح اکثریت بھی ہو گی جس کا سیدھا اور واضح مطلب ہے کہ چند دیگر چھوٹی جماعتوں کے ساتھ آئین میں آسانی سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ ترامیم بھی کروائی جا سکتی ہیں، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے پاس سینیٹ میں صررف 13 سیٹیں ہیں اس کے لیے ابھی بہت سی مشکلات موجود ہیں ،ا س لحاظ سے پیپلز پارٹی انتہائی خوش قسمت دکھائی دیتی ہے کہ اس کے بغیر حکومت بنتی دکھائی نہیں دے رہی اور اس کے پاس بہر حال یہ آپشن موجود ہے کہ وہ ن لیگ یا پی ٹی آئی میں سے کسی کے ساتھ بھی اتحاد کر سکتی ہے اور ممکنہ اتحاد کی مد میں اپنی خواہشات و شرائط بھی لاگو کر سکتی ہے۔

(جاری ہے)

میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ن لیگ پنجاب میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے کم ازکم 60 حلقوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کو سیٹ ایڈجسٹمنٹ یا خاموش حمایت کے ذریعے مدد فراہم کرے گی، اس میں زیادہ تر حلقوں کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے، اسی طرح خیبرپختونخواہ میں بھی دونوں جماعتوں کے مابین ایسی ہی سیٹ ایڈجسٹمنٹ بھی کی جائے گی۔

مسلم لیھ ن کی جانب سے پیپلز پارٹی کی قیادت کو یہ پیغام بھی بھجوایا گیا ہے کہ پنجاب حکومت میں بھی پیپلز پارٹی کو چار سے پانچ وزارتیں دی جائیں گی اور دوسری جانب سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری کو بھی پنجاب کی قیادت کی طرف سے یہ فیڈ بیک دیا گیا ہے کہ صوبے میں پارٹی کو از سر نو فعال کرنے کے لیے سماجی کاموں کی ڈیلیوری بہت ضروری ہے جو حکومت میں شامل ہوئے بغیر ممکن نہیں ہے، ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے یہ نرم رویہ پارٹی میں ان رہنماؤں کے پی ٹی آئی میں جانے کے بعد اختیار کیا گیا ہے جو ن لیگ کی پارٹی فورم پر شدید مخالفت کرتے تھے۔