احسن اقبال کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کیلئے درخواست پر سماعت عام انتخابات تک ملتوی کرنے کی استدعا مسترد

جمعہ جون 22:12

لاہور۔22 جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون2018ء) لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے سابق وفاقی وزیر احسن اقبال کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے لیے درخواست پر سماعت عام انتخابات تک ملتوی کرنے کی استدعا مسترد کر دی اور حکم دیا کہ 29 جون کو تحریری جواب داخل کروایا جائے۔ لاہور ہائیکورٹ کے سید جسٹس مظاہر علی اکبر کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے احسن اقبال کے خلاف عدلیہ مخالف تقریر پر کارروائی کے لیے درخواست پر سماعت کی۔

فل بنچ کے روبرو عدلیہ مخالف تقریر کی ویڈیو دوبارہ عدالت میں چلائی گئی فل بنچ نے واضح کیا کہ وہ کسی کی پابند نہیں وہ وہیں جواب دہ ہیں جہاں سب نے جانا ہے، بنچ کے رکن جسٹس عاطر محمود نے نشاندہی کی کہ نرمی دکھائی گئی جس کی وجہ سے یہ رویہ اپنایا گیا ہے، سماعت کے دوران فل بنچ نے احسن اقبال کو باور کروایا کہ یہ بات نہ کریں کہ پاکستان آ کر انہوں نے احسان کیا بلکہ پاکستان نے ان پر احسان کیا، پاکستان کے بغیر کسی کی کوئی حیثیت نہیں ،بنچ نے یہ بھی نشاندہی کی کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کی بیرون ملک سڑک پار کرنے کی ویڈیو سب نے دیکھی ہے ،یہاں آکر پھر سب کچھ بدل جاتا ہے، کیا اسمبلی میں کوئی قرار داد منظور ہوئی تھی کہ آپ پاکستان واپس آئیں،،احسن اقبال نے موقف اختیار کیا کہ ان کی تقریر کا ستر فیصد حصہ ہم آہنگی پر مشتمل تھا ،وہ قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور ان کے ذہن میں توہین عدالت کا وہم و گمان تک نہیں تھا ۔

(جاری ہے)

عدالت نے سابق وفاقی وزیر سے استفسار کیا کہ کیا کہ وہ ایسا موقع تھا جہاں پر چیف جسٹس پاکستان کے بارے میں بات کی جاتی احسن اقبال کے وکیل نے استدعا کی کہ ان کے موکل نے کاغذات نامزدگی جمع کروا دی ہے ان کے مخالف الیکشن مہم چلا رہے ہیں اور وہ پیشیاں بھگت رہے ہیں لہذا اس معاملے کو درگزر کیا جائے جس پر عدالت نے واضح کیا کہ جو بیانیہ پیش کیا گیا ہے اس کے بارے میں پوچھنا کوئی گناہ تو نہیں ہے، ججز کے کنڈکٹ کے بارے میں تو اسمبلی کے اندر بھی بات نہیں کی جا سکتی، بنچ نے افسوس کا اظہار کیا کہ تقریر میں ایسی بات کرنا غیر ملکیوں کے سامنے ملک کو ایکسپوز کرنے کے مترادف ہے، کیا یہ قوم کے ساتھ زیادتی نہیں،فل بنچ نے استفسار کیا کل کوئی ایک ایسا منصوبہ بتا دیں جس میں کرپشن کے الزام نہ لگے ہوں، احسن اقبال کے وکیل اعظم نظیر تارڑ نے استدعا کی کہ احسان کریں اور سماعت عام انتخابات تک ملتوی کردیں جس پر بنچ نے ہدایت کی کہ اگر احسن اقبال کو حاضری سے استثنیٰ چاہئیے تو اس پر غور کیا جا سکتا ہے۔