مسلم لیگ ن کے رہنما چودھری نثار علی خان کا قیادت پر براہ راست تنقید نہ کرنے کا فیصلہ

چودھری نثار علی خان کے رویے میں تبدیلی کی وجہ سے ہی ان کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ ذرائع

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ جون 18:07

مسلم لیگ ن کے رہنما چودھری نثار علی خان کا قیادت پر براہ راست تنقید ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 23 جون 2018ء) : سینئیر رہنما چودھری نثار علی خان نے بھی مسلم لیگ ن کی قیادت پر براہ راست تنقید نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چودھری نثار علی خان نے مسلم لیگ ن کی قیادت ، نواز شریف اور مریم نواز پر براہ راست تنقید نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گذشتہ روزپریس کانفرنس میں بھی چودھری نثار علی خان نے پارٹی قیادت کو نہ تو کسی تنقید کا نشانہ بنایا اور نہ ہی ان پر کوئی الزامات عائد کیے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق چودھری نثار علی خان کے رویے میں نرمی کی وجہ سے ہی ان کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ سابق حکومتی جماعت مسلم لیگ ن نے چودھری نثار علی خان کو ٹکٹ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چودھری نثار علی خان کو این اے 59 اور این اے 63 سے ٹکٹ جاری کیا گیا۔

(جاری ہے)

چودھری نثار علی خان لاہور کے دو حلقوں سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔

واضح رہے کہ چودھری نثار علی خان نے مسلم لیگ ن کو ٹکٹ کے لیے درخواست دینے سے انکار کیا تھا۔ جس کے بعد انہوں نے آزاد حیثیت میں نہ صرف الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا بلکہ اپنی انتخابی مہم کا بھی آغاز کر دیا تھا۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے چودھری نثار علی خان کے مقابلے میں کوئی اُمیدوار کھڑا نہ کرنے پر بھی غور شروع کر دیا ہے۔

میڈیا ذرائع کے مطابق چودھری نثار علی خان کے مقابلے میں اُمیدوار کھڑا نہ کرنے کا آپشن چودھری نثار علی خان کو پارٹی میں واپس لانے کے لیے کیا گیا۔ نواز شریف چودھری نثار علی خان کے لیے آپشن کھُلا رکھنے کی حتمی منظوری دیں گے۔ چودھری نثار علی خان کے لیے راستہ کھُلے رکھنے کی تجویز مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور پارٹی کے سینئیر رہنماؤں نے پیش کی۔

لیکن چودھری نثار علی خان کو درخواست نہ دینے پر پارٹی ٹکٹ جاری نہیں ہو گا۔ نواز شریف اس معاملے پر حتمی فیصلے سے قبل پرویز رشید کو بھی اعتماد میں لیں گے۔ واضح رہےکہ عام انتخابات 2018ء کی آمد آمد ہے اور سیاسی جماعتیں اپنے اپنے اُمیدواروں کو ٹکٹس جاری کرنے اور ہر حلقے میں تگڑا اُمیدوار کھڑا کرنے پر زور رہی ہیں، مسلم لیگ ن اور چودھری نثار علی خان کے مابین چھڑی ہوئی لفاظی جنگ کسی سے چھُپی ہوئی نہیں ہے۔

عام انتخابات کا وقت قریب آتے ہی پی ٹی آئی کی سیاسی فتوحات میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور دوسری جانب پی ٹی آئی کی سیاسی حریف اپنے انتخابی اُمیدواروں نے ہاتھ دھوتے جا رہے ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان مسلم لیگ ن کی قیادت اور ان کے نئے بیانیے سے غیر متفق نظر آتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سیاسی حلقوں میں خیال کیا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر چودھری نثار علی خان پارٹی چھوڑ کر کسی اور جماعت میں شامل ہو جائیں گے، چودھری نثار علی خان کی جانب سے پارٹی قیادت اور نواز شریف پر تنقید ایک طرف لیکن انہوں نے پارٹی چھوڑنے کی خبروں کی بارہا تردید کی ۔

اپنے ایک بیان میں وہ صاف کہہ چکے ہیں کہ میں پارٹی ٹکٹ کے لیے درخواست بھی نہیں کروں گا۔ یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے سابق وزیر داخلہ اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر لیکن ناراض رہنما چودھری نثار علی خان نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کردیا۔ راولپنڈی کے اڈیالہ روڈ پر کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے چودھری نثار علی خان نے کہا کہ پارٹی نے ٹکٹ سیاسی یتیموں کو دے دیئے ہیں اس لیے اب آزاد حیثیت میں الیکشن لڑوں گا اور اب زیادہ محنت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی میں 10 جبکہ (ن) لیگ میں 100 سے بھی زائد خامیاں ہیں، عورت راج کے مخالف نے آج اپنی بیٹی پارٹی پر مسلط کر دی، مجھے 34 سال کی رفاقت کا خیال آجاتا ہے ورنہ میں نے منہ کھولا تو یہ شریف برادران کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ لیکن گذشتہ روز ہونے والی پریس کانفرنس میں چودھری نثار علی خان نے نہ تو نواز شریف پر تنقید کی نہ ہی الزامات کی بوچھاڑ کی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق چودھری نثار علی خان کو ٹکٹ دینے کا مسلم لیگ ن کا فیصلہ ان کے رویے میں نرمی کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ چودھری نثار علی خان مسلم لیگ ن کی جانب سے دئے جانے والے ٹکٹس کو قبول کریں گے یا اپنے آزادانہ حیثیت میں الیکشن لڑنے کے فیصلے میں کوئی تبدیلی نہیں لائیں گے۔