دولت نچھاور کرنیوالوں اورجوانی نچھاور کرنیوالوں میں فرق رکھا جائے‘ولید اقبال

جن کو ٹکٹ ملاانہیں کوئی جانتانہیں ،ایسے لوگوں کو ٹکٹ دئیے گئے جو قبضہ مافیا اور یونین کونسل کا الیکشن ہارے ٹکٹوں کی تقسیم پر پارلیمانی بورڈ سے بہت سی غلطیاں ہوئیں،نظرثانی کرکے کارکنوں کے تحفظات دور کیے جاسکتے ہیں‘رہنما تحریک انصاف کی پریس کانفرنس

ہفتہ جون 19:35

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2018ء) تحریک انصاف لاہور کے رہنما ولید اقبال نے کہا ہے کہ دولت نچھاور کرنیوالوں اورجوانی نچھاور کرنیوالوں میں فرق رکھا جائے،جن کو ٹکٹ ملاانہیں کوئی نہیں جانتا،ایسے لوگوں کو ٹکٹ دئیے گئے جو قبضہ مافیا اور یونین کونسل کا الیکشن ہارے ،،لاہور کے معاملے میں پارلیمانی بورڈ سے بہت سی غلطیاں ہوئیں،نظرثانی کرکے کارکنوں کے تحفظات دور کیے جاسکتے ہیں،ہم اپنے چیئرمین اور پارٹی کیخلاف نہیں جائیں گے،میں زعیم قادری اور چوہدری نثار نہیں،میں ولید اقبال ہوں،، کل بھی عمران خان کے ساتھ تھے آج بھی ہوں آئندہ بھی ہوں گا۔

ان خیالا ت کااظہارولید اقبال نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ میں بڑا محظوظ ہوا چند گھنٹوں پہلے میسج آئے کہ آپ نے زعیم قادری والی پریس کانفرنس کرنی ہے چوہدری نثار والی نہیں کرنی، لیکن میں نے کہا کہ یہ دونوں کی نہیں ولید اقبال کی پریس کانفرنس کرنی ہے ۔

(جاری ہے)

بہت سے لوگ مجھے کہتے ہیں کہ آپ تحریک انصاف کا چہرہ ہو۔چیئرمین عمران خان نے کہاتھا کہ اگر آپ کو لگتا ہے کہ ناانصافی ہوئی تو آواز بلند کرنا آپ کا حق ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ لسٹ میرے مشورے کے بغیر بنائی گئی۔ سب کی گفتگو سن کر دل کیا کہ کہوں ہمنوا میں بھی گل ہوں جو خاموش رہو۔میں آج سب کے سامنے کہنا چاہتا ہوں کہ لاہور کی نشستوں پر ناانصافی ہوئی ہے ۔ لاہور کے کارکن جن کے گھروں پر چھاپے پڑے، گرفتاریاں ہوئیں ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ اندازہ ہے کہ ایسے فیصلوں کے دوران پریشر تو ہوتا ہے ۔

اسی طرح ہم بھی انصاف پر کھڑے ہیں۔ میرا ذاتی معاملہ ہوتا تو میں حل کروا لیتا مگر یہ معاملہ میری پوری ٹیم کا تھا۔ ہر احتجاج میں میری ٹیم میرے ساتھ رہی ہے۔ ٹیم کے ساتھیوں کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا رہا مگر انہیں کہا کہ پارٹی قوانین کی پاسداری کریں۔ ولید اقبال نے کہا کہ چیئرمین نے سب کو کہا کہ اعتراض ہے تو اسے ثبوت کے ساتھ فائل کریں۔

جن جن کو تحفظات تھے سب نے آواز بلند کی مگر لاہور خاموش تھا جو اب نہیں ہے۔ ہم نے تحریک انصاف کے لیے کام کیا مگر ٹکٹ ایسے لوگوں کو دیا گیا جنہیں ہم جانتے ہی نہیں۔ شیخ امتیاز جیسے کارکنوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ ساتھیوں کی اپیل ہے کہ جو فیصلے ہوئے وہ جلد بازی اور عجلت میں ہوئے ہیں۔ لاہور کے کارکنوں میں بے پناہ بے چینی پائی جارہی ہے۔

جلدبازی مت کریں، ابھی دو چار دن باقی ہیں، اس میچ کو آخری اوور تک لے کر جانا ہے۔ سعدیہ سہیل، میاں اویس انجم، نعیم الحق سب پرانے کارکن ہیں۔ اگر یہ مستحق نہیں تو کیوں نہیں، اور اگر کوئی مستحق ہے تو اسے کہو وہ اپنی ڈگری تو لا کر دکھائے۔ اگر کوئی انتقام ہے تو مجھ سے لے لو مگر ان کو تو ٹکٹ دے دو۔ مجھے کہیں تو کل ہی کاغذات واپس لے لوں گا۔

ولید اقبال نے کہا کہ میں عمران خان کے ساتھ تھا، ہوں اور رہوں گا۔ میں مانتا ہوں کہ جو اپنی دولت پارٹی پر نچھاور کرتا ہے مگر ایک وہ بھی جو جوانی نچھاور کرتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ امید رکھتے ہیں کہ کوئی فیصلہ جلدبازی میں نہیں کیا جائے گا ۔ قوانین کے مطابق لسٹیں واپس لے کر کارکنوں کی منشاکے مطابق فیصلے کیے جائیں گے ۔ ہم نے کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ متحد اور پرعزم رہیں ہم عمران خان کو وزیر اعظم ہاوس پہنچائیں گے۔ ولید اقبال نے پریس کانفرنس کا اختتام اس شعر کے ساتھ کیا وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات ۔