شیخ رشید کا انتخابی مہم کا انوکھا انداز،موٹر سائیکل پر اپنے حلقے میں انتخابی مہم کے لیے نکل پڑے

سوچ رہا ہوں قلم دوات کی جگہ موٹرسائیکل کا انتخابی نشان لے لوں،عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی میڈیا سے گفتگو

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان اتوار جون 12:29

شیخ رشید کا انتخابی مہم کا انوکھا انداز،موٹر سائیکل پر اپنے حلقے میں ..
راولپنڈی (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔24جون 2018ء) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید موٹرسائیکل پر اپنے حلقے میں انتخابی مہم کے لیے نکل پڑے۔ شیخ رشید قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 60 اور 62 راولپنڈی سے انتخاب لڑیں گے جنہیں تحریک انصاف کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور ان دونوں نشستوں پر پی ٹی آئی نے اپنا امیدوار کھڑا نہیں کیا۔ تفصیلاتکے مطابق شیخ رشید اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں موٹرسائیکل پر سوار ہو کر اپنے حلقے میں نکلے اور ناشتے کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سوچ رہا ہوں قلم دوات کی جگہ موٹرسائیکل کا انتخابی نشان لے لوں۔

سربراہ عوامی مسلم لیگ نے اعلان کیا کہ وہ انتخابی مہم کے آخری 10 روز موٹرسائیکل پر مہم چلائیں گے۔شیخ رشید کا مزید کہنا تھا کہ اقتدار میں آ کر نالہ لئی ایکپسریس اور غازی بروتھا پراجیکٹ مکمل کروں گا اور چوروں اور ڈاکوؤں کی لوٹی دولت واپس لاؤں گا۔

(جاری ہے)

شیخ رشید نے دعویٰ کیا کہ وہ انتخابات میں راولپنڈی کی دونوں نشستوں پر ریکارڈ ووٹ حاصل کریں گے۔

اور قلم دوات اور بلا راولپنڈی سے تمام سیٹیں جیتے گا۔ شیخ رشید نے کہا کہ حالات جیسے بھی ہوں ہمیں الیکشن کی طرف بڑھنا چاہیے۔یاد رہے ایک رپورٹ میں کیا گیا تھا کہ 25 جولائی 2018 ء کو ہونے والے عام انتخابات پاک فوج کی زیر نگرانی ہوں گے۔جب کہ عام انتخابات کے دوران سیکیورٹی خدشات بھی موجود ہیں جس کے پیش نظر سیکیورٹی فورسز 22جولائی اتوار کے روز ہی اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گی۔

پنجاب میں چھ ہزار پولنگ اسٹیشن حساس قرار دئیے جا چکے ہیں۔ پنجاب سمیت ملک بھر میں کے حساس پولنگ اسٹیشنوں پر کلوز سرکٹ کیمرے بھی لگوائے جائیں گے۔عام انتخابات میں سیکیورٹی کے حوالے خاص انتظامات کیے گئے ہیں۔ 25 جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات ملکی تاریخ کے سب سے مہنگے اور سب سے بڑے انتخابات ہوں گے۔2018کے انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ 2018کے انتخابی اخراجات کا تخمینہ21ارب ہے۔اس بار الیکشن میں تحریک انصاف کا پلڑہ بھاری دیکھنے کو مل رہا ہے اور یہی وجہ ہے دوسری سیاسی پارٹیوں کے رہنما بھی پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں۔