آزادی پسند رہنمائوں اور تنظیموں کی علاقے میں جاری قتل و غارت کی شدید مذمت

حصول مقصد تک جدوجہدجاری رکھنا شہداء کو بہترین خراج عقیدت ہوگا‘آزادی پسند رہنماء

اتوار جون 12:40

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جون2018ء) مقبوضہ کشمیر میں مختلف آزادی پسند تنظیموں اور رہنمائوں نے علاقے میں بھارتی فورسز کی طرف سے جاری قتل وغارت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قابض فورسزنے سری گفوارہ میں ایک عام شہری محمد یوسف راتھر کو قتل اور اس کی بیوی رفیقہ بانو کو زخمی کرکے بھارت کی نام نہادجمہوریت کو ایک بار پھر داغدار کردیا ہے۔

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق آزادی پسند رہنمائوں نے سری گفوارہ میں شہید ہونے والے نوجوانوں کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہداء کی قربانیوں کی حفاظت کرناناگزیر ہے۔تحریک مزاحمت کے چیئرمین بلال احمد صدیقی نے حالیہ ایام میں شہید ہونے والے نوجوانوںکو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے نوجوان ایک عظیم مقصد کے لئے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں اور انسانی اور اسلامی تاریخ میں ایک ناقابل فراموش اور قابل تقلید باب رقم کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ان قربانیوں کا احترام ہم سب پر فرض ہے اوران قربانیوں کو حقیقی خراج عقیدت یہ ہوگا کہ ہم کسی صورت میںان کو فراموش نہ کریں بلکہ حصول مقصد تک جدوجہدجاری رکھیں۔ ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ وادی کشمیر میں قتل و غارت کی بڑی وجہ علاقے میںبھارتی فوجیوں کی بڑی تعداد میں موجودگی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہیدمحمد یوسف راتھر کے بیٹے سیار احمد کو اٴْن کے والد کی تجہیز و تکفین میں شرکت سے روکنے سے انسانی حقوق کی پامالیوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔نیشنل فرنٹ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہاکہ کشمیری عوام مسلسل خوف کے ماحول میں جینے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہداء کے مقدس لہو کی ہر صورت میں حفاظت کی جائے گی۔ مسلم لیگ کے ترجمان نے کہاکہ قابض فورسز کی طرف سے پٴْرامن مظاہرین پر طاقت کا بے دریغ استعمال انتہائی تشویشناک ہے۔

انہوں نے عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو ان واقعات کا سنجیدہ نوٹس لینے کی اپیل کی۔ حریت رہنما محمد یاسین عطائی نے بھی شہید نوجوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور معصوم شہریوں کو قتل اور زخمی کئے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دریں اثناء سالویشن مومنٹ کا ایک وفد ضلع اسلام آباد میں شہید ہونے والے نوجوانوں کے اہلخانہ سے اظہار یکجہتی کے لیے ان کے گھرگیا۔ وفد میںمفتی مدثر ، محمد اسحاق جاوید احمد اور رفیق احمد شامل تھے۔